٥ وینبغی ان یکون فی مدة الرضاع لما نبین (١٧٠١)ثم مدة الرضاع ثلثون شہرا عند ابی حنیفة) ١ وقالا سنتان وہو قول الشافعی
دیا ، اور اگر آیت پہلے ہے اور حدیث بعد میں ہے تو آیت کے مقابلے میں حدیث کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ، اسی کو صاحب ہدایہ نے مردود بالکتاب کہا ہے ۔
ترجمہ: ٥ اور مناسب ہے کہ یہ پینا رضاعت کی مدت میں ہو ، اس کی وجہ آگے بیان کروں گا
تشریح: حرمت رضاعت اس وقت ثابت ہو گی جبکہ مدت رضاعت میں دودھ پیا ہو ، اس کی وجہ آ گے آئے گی ۔
ترجمہ: (١٧٠١) رضاعت کی مدت امام ابو حنیفہ کے نزدیک تیس مہینے ہیں۔
تشریح: امام ابو حنیفہ کے نزدیک بھی اصل میں دو سال ہی ہیں البتہ احتیاط کے طور پر چھ ماہ زیادہ کر دیا ہے تاکہ دو سال کے بعد دودھ چھوڑتے چھوڑتے چھ ماہ نکل جائیںگے۔چنانچہ موطا امام محمد میں اس کی تصریح ہے ۔وکان ابو حنیفة یحتاط بستة اشھر بعد الحولین فیقول یحرم ماکان فی الحولین وبعدھما الی تمام ستة اشھر وذلک ثلثون شھراولا یحرم ما کان بعد ذلک ونحن لا نری انہ یحرم ونری انہ لا یحرم ماکان بعد الحولین ۔(موطا امام محمد ، باب الرضاع ص ٢٧٨ ) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حرمت کے لئے دو سال اصل ہیں اور مزید چھ ماہ احتیاط کے لئے ہیں۔
وجہ : (١) و حملہ و فصالہ ثلاثون شھرا ۔(آیت ١٥، سورة الاحقاف ٤٦) اس آیت میں حمل کی مدت بھی تیس مہینے ہیں۔ اور دودھ پلانے کی مدت بھی تیس مہینے ہیں ۔ اور حدیث کی بنیاد پر حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہو گئی تو دودھ پلانے کی مدت تیس مہینے یعنی ڈھائی سال رہ گئی ۔
ترجمہ : ١ صاحبین نے فر مایا کہ دو سال ہے ، اور یہی قول امام شافعی کا ہے ۔
تشریح : صاحبین اور امام شافعی کا مسلک ہے کہ دو سال تک رضاعت کی مدت ہے اس کے اندر اندر دودھ پلائے گی تو حرمت ثابت ہو گی اس کے بعد حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔ موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔ قال الشافعی ....و لا یحرم من الرضاع الا ما تم خمس رضعات فی الحولین ۔( موسوعة امام شافعی ، باب رضاعة الکبیر ، ج عاشر ، ص ٩٨، نمبر ١٥٥٧٦) اس عبارت میں ہے کہ دو سال تک رضاعت کی مدت ہے ۔
وجہ : (١) اس آیت میں ہے۔والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعة ۔ (آیت ٢٣٣ سورة البقرة٢) اس آیت میں ہے کہ دو سال دودھ پلائے (٢)و حملہ و فصالہ ثلاثون شھرا ۔(آیت ١٥، سورة الاحقاف ٤٦) اس آیت میں حمل کی مدت اور دودھ پلانے کی مدت دو نوں ملاکر تیس مہینے ہیں، اور حمل کی کم سے مدت چھ مہینے ہیں تو