٧ وفی غیرالمعین القبضُ موجب ملک العین فیمتنع بالاسلام ٨ بخلاف المشتری لان ملک التصرف انما یستفاد بالقبض ٩ واذا تعذرالقبض فی غیرالمعین لاتجب القیمة فی الخنزیر لانہ من ذوات القیم فیکون اخذقیمتہ کاخذعینہ ١٠ ولا کذلک الخمر لانہا من ذوات الامثال الاتریٰ انہ لوجاء بالقیمة قبل الاسلام تجبر علیٰ القبول فی الخنزیردون الخمر ١١ ولو طلقہا قبل الدخول بہا فمن اوجب مہرالمثل اوجب المتعة ومن اوجب القیمة اوجب نصفہا
ترجمہ: ٧ اور غیر متعین میں قبضہ ملک عین کا سبب ہے اس لئے اسلام کی وجہ سے ممنوع ہو گا ۔
تشریح : مہر میں شراب اور سور متعین نہ ہو تو اس پر قبضہ کے بعد عورت مالک ہو تی ہے عقد کے وقت نہیںاور مسلمان ہو نے کی وجہ سے مالک ہو نا ممنوع ہے اس لئے اب شراب اور سور نہیں دیا جا سکتا اس لئے شراب کی صورت میں اس کی قیمت اور سور کی صورت میں مہر دلوا یا جائے گا ۔
ترجمہ: ٨ بخلاف مشتری کے اس لئے کہ تصرف کا مالک ہو نا صرف قبضے سے مستفاد ہو تا ہے۔
تشریح : یہ ایک اشکال کا جواب ہے ، اشکال یہ ہے کہ شراب یا سور متعین ہو تو عورت عقد ہی کے وقت سے مالک ہو جاتی ہے اور تصرف بھی کر سکتی ہے تو بیع میں مشتری عقد ہی کے وقت سے مبیع کا مالک کیوں نہیں ہو تا ؟حالانکہ مسئلہ یہ ہے کہ کفر کی حالت میں شراب خریدی اور قبضہ کر نے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اب اس کے لئے شراب پر قبضہ کر نا جائز نہیں ۔ تو اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ مہر اور بیع میں فرق ہے کہ مہر میں عورت عقد کے وقت سے مہر متعین کا مالک ہو جاتی ہے ، اور مشتری متعین مبیع میں قبضہ کر نے کے بعد مالک ہو تا ہے ، اور مسلمان ہو نے کی وجہ سے اب شراب کا مالک ہو نا جائز نہیں اس لئے اب اس پر قبضہ کر نا بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ قبضہ یہاں ملک کے مشابہ ہے ۔
ترجمہ: ٩ اور جب غیر معین مہر میں قبضہ کرنا متعذر ہو گیا تو سور میں قیمت واجب نہیں ہو گی اس لئے کہ وہ ذوات القیم ہے اس لئے اس کی قیمت لینا گویا کہ سور کو لینا ہے ۔
تشریح : اسلام کی وجہ سے غیر معین مہر میں اس پر قبضہ کر نا متعذر ہو گیا تو اگر مہر میں سور ہے تو اس کی قیمت لازم نہیں ہو گی ، اس لئے کہ وہ ذوات القیم ہے اس لئے اس کی قیمت کو لینا گویا کہ سور کو لینا ہے اس لئے مسلمان ہو نے کی وجہ سے اس کی قیمت نہیں لے سکتے اس لئے مہر مثل لازم ہو گا ۔
ترجمہ: ١٠ شراب میں ایسا نہیں ہے اس لئے کہ وہ ذات الامثال میں سے ہے ، کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ اسلام لانے سے پہلے اس کی قیمت دے تو سور میں قبول کر نے پر مجبور کیا جائے گا ، شراب میں نہیں ۔