مہر مثلہا اکثر من قیمة العبد لانہما لو کانا حرین یجب تمام مہر المثل عند ہ فاذا کان احدہما عبدا یجب العبد الی تمام مہر المثل (١٦٢٥) واذا فرق القاضی بین الزوجین فی النکاح الفاسد قبل الدخول فلا مہر لہا )
پورا کر نے تک ، اگر مہر مثل غلام کی قیمت سے زیادہ ہو ، اس لئے کہ دو نوں آزاد ہو تے تو انکے نزدیک پورا مہر مثل ملتا پس جبکہ ایک غلام ہے تو غلام واجب ہو گا مہر مثل کے پورا کرنے تک ۔
تشریح : ۔ امام محمد نے فر ما یا اور امام ابو حنیفہ کی بھی ایک روایت یہی ہے کہ اگر مہر مثل ایک غلام کی قیمت سے زیادہ ہے مثلا مہر مثل تین ہزار ہے اور غلام کی قیمت دو ہزار ہے تو غلام دلوا یا جائے گا اور مہر مثل پورا کر نے کے لئے ایک ہزار درہم الگ سے دلوا یا جائے گا ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ اگر دو نوں آزاد ہو تے تو پہلے گزرا کہ مہر مثل دلوا یا جائے گا اس لئے اگر ایک آزاد نکلا تو مہر مثل اصل قرار دیا جائے اور غلام دینے کے بعد جو باقی بچے وہ رقم دلوائی جائے تاکہ مہر مثل پورا ہو جائے ۔ اور اگر مہر مثل اس غلام کی قیمت سے بھی کم ہے تو غلام ہی کی قیمت بہتر ہے ، اور اگر مہر مثل ایک غلام کی قیمت کے برابر ہے تو غلام دینا گویا کہ مہر مثل دینا ہے ، اس لئے مہر مثل پورا ہوگیا ۔
ترجمہ : (١٦٢٥) اگر قاضی نے نکاح فاسد میں بیوی شوہر کے درمیان تفریق کرائی صحبت سے پہلے تو اس کے لئے مہر نہیں ہے۔
تشریح: نکاح فاسد میں دخول سے پہلے قاضی نے میاں بیوی کے درمیان تفریق کرائی تو عورت کے لئے مہر نہیں ہے۔اور اگر نکاح صحیح ہو تا تو آدھا مہر دلواتا ۔
وجہ: (١) نکاح فاسد مجبوری کے درجہ میں نکاح ہے۔ اس لئے با ضابطہ صحبت سے پہلے نکاح کا انعقاد نہیں ہوگا۔ اس لئے اس سے پہلے مہر بھی لازم نہیں ہوگا۔ اور چونکہ نکاح صحیح نہیں ہے اس لئے خلوت کرنا صحبت کے درجے میں نہیں ہے۔ اس لئے قاضی نے صحبت سے پہلے یا خلوت سے پہلے یا خلوت کے بعدتفریق کرادی تو مہر لازم نہیں ہوگا(٢) نکاح فاسد نکاح نہیں ہے اس کی دلیل یہ اثر ہے۔عن عطاء قال من نکح علی غیر وجہ النکاح ثم طلق فلا یحسب شیئا انما طلق غیر امرأتہ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب النکاح علی غیر وجہ النکاح ،ج سادس، ص ١٦٣، نمبر١٠٥٥١) اس اثر میں ہے کہ نکاح کے طریقے کے علاوہ جو نکاح کیا اس کا اعتبار نہیں ہے۔اس لئے نکاح فاسد کا اعتبار نہیں ہے۔(٣) اس اثر میں ہے کہ نکاح فاسد میں دخول کے بعد مہر لازم ہو گا۔عن ابراھیم قال کل نکاح فاسد نحو الذی تزوج فی عدتھا واشباھہ ماذا من النکاح الفاسد اذا کان قد دخل بھا؟ فلھا الصداق ویفرق بینھما۔ (مصنف ابن ابی شیبة ١٦١ ماقالوا فی المرأة تزوج فی عدتھا الھا الصداق ام لا ؟ ،ج