(١٦٢٤) فان تزوجہا علی ہذین العبدین فاذا احدہما حر فلیس لہا الا الباقی اذا ساوی عشرة دراہم ) ١ عند ابی حنیفة لانہ مسمی ووجوب المسمی وان قل یمنع وجوب مہر المثل ٢ وقال ابویوسف لہا العبد وقیمة الحر لو کان عبدا لانہ اطعمہا سلامة العبدین وعجز عن تسلیم احدہما فتجب قیمتہ ٣ وقال محمد و ہو رواےة عن ابی حنیفة لہا العبد الباقی الی تمام مہر مثلہا ان کان
ترجمہ : ( ١٦٢٤) اگر شادی کی ان دو نوں غلاموں پر اور ان میں سے ایک آزاد نکلا تو عورت کے لئے باقی غلام ہے اگر اس کی قیمت دس درہم کے برابر ہے ۔
ترجمہ : ١ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس لئے کہ یہ مہر تعین کیا ہوا ہے ، مسمی چا ہے کم ہو مہر مثل سے روکتا ہے ۔
تشریح : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ اگر مہر متعین کیا ہو چا ہے کم مہر ہو تو مہر مثل لازم نہیں ہو گا بشرطیکہ دس درہم سے کم نہ ہو ۔ صورت مسئلہ یہ ہے کہ دو غلاموں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان دو نوں پر نکاح کرتا ہو ں ، بعد میں ان میں سے ایک غلام نکلا اور ایک آزاد نکلا تو امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ جو آزاد ہے وہ مہر میں نہیں رہے گا ، کیونکہ اس کو مہر میں دے ہی نہیں سکتے ، اور جو غلام ہے وہی مہر میں دیا جائے گا ، بشرطیکہ اس کی قیمت دس درہم سے کم نہ ہو ۔
وجہ : پہلے گزر چکا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اشارہ اور تسمیہ دونوں جمع ہوں تو اشارہ کا اعتبار ہو تا ہے تسمیہ کا نہیں ، اور یہاں بو لا تو ہے دو غلام ، لیکن اشارہ ایک ہی غلام کی طرف ہوا کیونکہ دوسرا تو آزاد تھا اس لئے جس غلام کی طرف اشارہ ہوا وہی غلام مہر بن گیا اور باقی ساقط ہو گیا ، اور یہ قاعدہ گزر چکا ہے کہ تھوڑا بھی مہر بن گیا تو مہر مثل لازم نہیںہو گا ، اور نہ قیمت کے ساتھ مہر مثل کو جمع کیا جائے گا اس لئے یہاں مہر مثل بھی لازم نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : ٢ امام ابو یوسف نے فر ما یا کہ عورت کے لئے غلام ہو گا اور آزاد کی قیمت ہو گی اگر اس کو غلام فرض کر دیا جائے ، اس لئے کہ عورت کو دو نوں غلام کے سالم ہو نے کا لالچ دلوایا ہے اور ان میں سے ایک کے سپرد کر نے سے عاجز ہو گیا اس لئے اس کی قیمت لازم ہوگی۔
تشریح : امام ابو یوسف فر ما تے ہیں کہ عورت کو مہر میں موجودہ غلام ملے گا،اور جو آزاد نکلا اس کو غلام فرض کر کے اس قسم کے غلام کی قیمت جو ہو سکتی ہے وہ لازم ہو گی ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کو دو نوں غلام کا لالچ دیاہے اور عورت دو غلام لینے پر راضی ہوئی ہے اور دوسرے غلام کے سپرد کر نے سے عاجز ہو چکا ہے اس لئے اسکی قیمت لازم ہو گی ۔
ترجمہ : ٣ اور امام محمد نے فر ما یا اور وہی ایک روایت امام ابو حنیفہ کی بھی ہے کہ عورت کے لئے مو جودہ غلام ہے مہر مثل کے