Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

212 - 465
  ١   لان المہر فیہ لا یجب بمجرد العقد لفسادہ وانما یجب باستیفاء منافع البضع (١٦٢٦) وکذا بعد الخلوة )   ١    لان الخلوة فیہ لا یثبت بہا التمکن فلاتقام مقام الوطی 

رابع، ص ٤،نمبر١٧١٩٠(٤) اور میاں بیوی دو نوں کے درمیان تفریق کر دی جائے اس کے لئے یہ اثر ہے ۔عن الشعبی قال : عمر یفرق بینھما و لھا الصداق بما استحل من فرجھا  ۔ (مصنف ابن ابی شیبة، ١٦١ ماقالوا فی المرأة تزوج فی عدتھا الھا الصداق ام لا ؟ ،ج رابع، ص٤، نمبر ١٧١٨٧ مصنف عبد الرزاق ، باب نکاحھا فی عدتھا ،ج سادس ،ص ١٦٧ ،نمبر١٠٥٨٢ )اس اثر میں ہے کہ دو نوں کے درمیان تفریق کر دی جائے اور یہ بھی ہے کہ وطی کر نے کی وجہ سے مہر ملے گا ۔
نوٹ:  نکاح فاسد یہ ہیں ]١[ عورت عدت گزار رہی ہو اسی درمیان نکاح کرنا نکاح فاسد کی شکل ہے۔]٢[یا بغیر گواہ کے نکاح کر نا نکاح فاسد ہے ۔]٣[بہن کو طلاق دیا تھا وہ عدت گزار رہی تھی اسی کی عدت میں اس کی دوسری بہن سے نکاح کر لیا یہ نکاح فاسد ہے ]٤[چار بیویاں تھیں ، چوتھی کو طلاق دی وہ عدت گزر رہی تھی کہ پانچویں سے نکاح کیا ، یہ چو تھی کی عدت میںپانچویں سے نکاح کر نا نکاح فاسد ہے ]٥[آزاد عورت نکاح میں تھی ، اس پر باندی کا نکاح کیا یہ نکاح فاسد ہے ۔  
ترجمہ  :  ١  اس لئے کہ مہر نکاح فاسد میں محض عقد سے واجب نہیں ہو تا عقد کے فاسد ہو نے کی وجہ سے صرف بضع کے منافع کو حاصل کر نے کی وجہ سے واجب ہو تا ہے ۔ 
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے ، چونکہ نکاح گویا کہ ہے ہی نہیں اس لئے نکاح کی وجہ سے مہر لازم نہیں ہو گا ، صرف بضع کے منافع حاصل کر نے کی وجہ سے یعنی  وطی کر نے کی وجہ سے مہر لازم ہو گا ، اور وطی نہیں ہوئی ہے تو مہر بھی لازم نہیں ہو گا ۔ 
ترجمہ  :  ( ١٦٢٦)  اور ایسے ہی خلوت کے بعد بھی مہر لازم نہیں ہو گا ۔
ترجمہ  :    ١  اس لئے نکاح فاسد میں خلوت قدرت کو ثابت نہیں کر تا ، اس لئے وہ وطی کے قائم مقام نہیں ہو گا ۔ 
تشریح :   بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ وطی کے قائم مقام اس وقت ہے جبکہ وہ بیوی ہو ، اور یہ حقیقت میں بیوی ہی نہیں ہے کیونکہ نکاح فاسد ہے ، اس لئے اس کے ساتھ خلوت صحیحہ ہو نے سے وطی کے قائم مقام نہیں ہو گی ، اور پورا مہر لازم نہیں ہو گا ۔ ایک اجنبیہ کے ساتھ کیسے کہا جائے گا کہ اس نے وطی کر لی ہو گی ! ۔۔التمکن : قدرت ، یہاں مراد ہے وطی پر قدرت دینا ۔ 

Flag Counter