٥ والتسمےة ابلغ فی التعریف من حیث انہا تعرف الماہےة والاشارة تعرف الذات ٦ الا تری ان من اشتری فصاً علی انہ یاقوت فاذا ہو زجاج لاینعقد العقد لاختلاف الجنس ولو اشتری علی انہ یاقوت احمر فاذا ہواخضر ینعقد العقد لاتحاد الجنس ٧ وفی مسألتنا العبد مع الحر جنس واحد لقلة التفاوت فی المنافع والخمر مع الخل جنسان لفحش التفاوت فی المقاصد
ترجمہ : ٥ اور تسمیہ تعریف میں زیادہ بلیغ ہے اس لئے کہ وہ ماہیت کا تعارف کرا تا ہے ، اور اشارہ ذات کا تعارف کراتا ہے۔
تشریح : تسمیہ یعنی جو نام لیا گیا وہ حقیقت اور ماہیت کا تعارف کراتا ہے اس لئے تعارف کرانے میں وہ زیادہ بلیغ اور واضح ہے ، اور اشارہ صرف ذات کا اور خارج کا تعارف کراتا ہے، اس لئے جب دو نوں کی جنس الگ ہوں اور ماہیت ذات کا تابع نہیں بن سکتی ہو تو اس وقت عقد کا تعلق تسمیہ اور ماہیت سے ہو گا ، اور پہلے مسئلے میں تسمیہ سرکہ ہے جو مہر بن سکتا ہے اسلئے مہر مثل لازم نہیں ہو گا سرکے کی قیمت لازم ہو گی۔
ترجمہ : ٦ کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ کسی نے نگینہ خریدا اس شرط پر کہ وہ یاقوت ہے اور وہ شیشہ نکلا تو عقد منعقد نہیں ہو گا جنس کے مختلف ہو نے کی وجہ سے ، اور نگینہ خریدا اس شرط پر کہ وہ سرخ یاقوت ہے پس وہ سبز یاقوت نکلا تو عقد منعقد ہو جائے گا جنس کے متحد ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : اوپر کے مسئلے کی ایک مثال دے رہے ہیں ۔کسی نے انگوٹھی کانگینہ اس شرط پر خریدا کہ وہ یاقوت ہے اور وہ شیشہ نکلا تو عقد منعقد نہیں ہو گا ، کیونکہ مسمی یاقوت ہے اور ا شارہ شیشہ کی طرف ہے اور دو نوں کی جنس الگ الگ ہے اس لئے مشار الیہ تسمیہ کے تحت میں نہیں ہے اس لئے بیع فاسد ہو جائے گی۔ اور اگر نگینہ اس شرط پر خریدا کہ وہ لال ہے اور بعد میں سبز نکلا تو بیع ہو جائے گی ، کیونکہ دو نوں کی جنس ایک ہے ، صرف صفت الگ الگ ہے اس لئے مسمی مشار الیہ کے تحت میں ہے اس لئے دو نوں چیز ایک ہی شمار کر کے بیع ہو جائے گی ۔
لغت : فص : نگینہ ۔ یاقوت : ایک قسم کا قیمتی پتھر ۔زجاج : شیشہ ۔ احمر : لال ۔ اخضر: سبز رنگ۔
ترجمہ : ٧ ہمارے مسئلے میںغلام آزاد کے ساتھ ایک جنس ہے منافع میں تفاوت کم ہو نے کی وجہ سے ، اور شراب سرکہ کے ساتھ دو جنس ہے مقصد میں بہت تفاوت ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : متن کے مسئلے میں غلام اور آزاد ایک ہی جنس ہیں ، کیونکہ دو نوں کے منافع میں زیادہ فرق نہیں ہیں اور دو نوں ہی انسان ہیں ۔ اور شراب اور سرکہ دو جنس ہیں، کیونکہ دو نوں کے منافع میں بہت فرق ہے ۔ سرکہ حلال ہے اور شراب حرام ہے ، سرکہ میں کھٹا پن ہے اور شراب میں کڑوا پن ہے اس لئے دو نوں کے منافع میں فرق ہے اس لئے دو نوں دو جنس ہیں ۔