Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

208 - 465
٤ ومحمد یقول الاصل ان المسمی اذا کان من جنس المشار الیہ یتعلق العقد بالمشار الیہ لان المسمی موجود فی المشار ذاتا والوصف یتبعہ وان کان من خلاف جنسہ یتعلق بالمسمی لان المسمی مثل للمشار الیہ ولیس بتابع لہ 

ترجمہ  :  ٤  امام محمد  فر ما تے ہیں کہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس کی طرف اشارہ کیا اگر مسمی اس کی جنس سے ہو تو عقد مشار الیہ کے ساتھ تعلق رکھے گا ، کیونکہ جس کی طرف اشارہ کیا ذات کے اعتبار سے مسمی اس کے اندر ہے، اور وصف اس کے تابع ہے ۔اور اگر مسمی مشار الیہ کے جنس کے خلاف ہو ، تو عقد مسمی کے ساتھ تعلق رکھے گا ، اس لئے کہ مسمی اور مشار الیہ برابر ہو گیا ، اس لئے مسمی مشار الیہ کے تابع نہیں ہو گا ۔ 
تشریح :   یہاں دلیل منطقی ہے اس کو پہلے سمجھیں ۔  ذات : جو چیز خارج میں مو جود ہے اور اس کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں منطق میں اس کو٫ذات، کہتے ہیں ۔ ماہیت : کسی چیز کا نام لیں اور اس کی حقیقت بیان کریں ، تو اس حقیقت کا نام ماہیت ہے ، اس لئے مسمی میں ماہیت ہو تی ہے ، اور اشارے میں ذات ہو تی ہے ۔پس اگر مسمی اور جسکی طرف اشارہ کیا ہو ]مشار الیہ [ دو نوں کی جنس ایک ہو تومشار الیہ کی ذات میں مسمی بھی پائی جائی گی ۔ جیسے غلام اور آزاد دو نوں کی جنس ایک ہے ،  کیونکہ دو نوں انسان ہیں ، صرف صفت کا فرق ہے ، اس لئے جب آزاد کی طرف اشارہ کیا اور بولا غلام تو غلام کی ماہیت یعنی انسان آزاد کی ذات میں مو جود ہے ، کیونکہ دو نوں انسان ہیں ۔ اور اگر دو نوں کی جنس الگ الگ ہوں تو مسمی الگ ہو جائے گا ،اور مشار الیہ الگ ہو جائے گا ، دو نوں کی جنس الگ الگ ہو نے کی وجہ سے ایک دوسرے کا تابع نہیں ہو سکے گا۔۔ مشار الیہ : جس کی طرف اشارہ کیا ہو ۔
 ۔ جنس : دو چیزوں کی حقیقت ایک ہو البتہ صفت کا فرق ہو تو دو نوں کی جو ایک حقیقت ہے اس کو جنس کہتے ہیں ، جیسے غلام اور آزاد دو نوں کی حقیقت انسان ہے البتہ ایک کی صفت آزادگی ہے اور دوسرے کی صفت غلامیت ہے ، اس لئے دو نوں کی جنس ایک ہوئی ۔اور شراب اور سرکہ دو نوں کی حقیقت بھی دو ہیں ، کیونکہ ایک حرام ہے اور دوسرا حلال ہے ایک نشہ آور ہے د وسرے میں سرور ہے اس لئے دو نوں دو جنس کے ہوئے ۔       
 عبارت کا حل یہ ہے ۔امام محمد  کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر مسمی مشار الیہ کی جنس سے ہو تو عقد کا تعلق مشار الیہ کے ساتھ ہو گا ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دو نوں کی جنس ایک ہے اس لئے مسمی ذات کے اعتبار سے مشار الیہ میں مو جود ہے ، اس لئے جب مشار الیہ کے ساتھ عقد ہوا تو اس کے اندر مسمی کے ساتھ بھی عقد ہو گیا ۔  اور اگر مشار الیہ اور مسمی کی جنس الگ الگ ہوں تو مسمی مشار الیہ کے اندر نہیں آئے گا کیونکہ دو نوں کی جنس الگ الگ ہو گئی اور دو نوں برابر برابر ہو گئے اس لئے مسمی مشار الیہ کے تابع نہیں ہو گا ، اور جب الگ الگ ہو گئے تو عقد کا تعلق مسمی کے ساتھ ہو گا ، کیونکہ مسمی تعریف میں بلیغ ہے اور زیادہ واضح ہے۔ 

Flag Counter