٢ لابی یوسف انہ اطمعہا مالا وعجز عن تسلیمہ فتجب قیمتہ او مثلہ ان کان من ذوات الامثال کما اذا ہلک العبد المسمی قبل التسلیم ٣ وابو حنیفة یقول اجتمعت الاشارة والتسمےة فتعتبر الاشارة لکونہا ابلغ فی المقصود وہو التعریف فکانہ تزوج علی خمر او حر
اصول : امام محمد کا اصول یہ ہے کہ ،اتحاد جنس میں اشارے کا اعتبار ہو گا ، جیسے آزاد اور غلام ، دونوں ایک جنس ہیں دونوں آدمی ہیں، اس لئے اشارے کا اعتبار ہو گا اور اشارہ کے اعتبار سے آزاد ہے اس لئے مال نہیں ہے اس لئے مہر مثل لازم ہو گا ۔ اوراختلا ف جنس میں مسمی کا اعتبار ہوگا ، جیسے شراب اور سرکہ ۔اور مسمی کے اعتبار سے سرکہ کہا ہے جو مال ہے اس لئے مہر متعین کر نا درست ہے اس لئے اس کی قیمت لازم ہو گی ، مہر مثل لازم نہیں ہو گا ۔
صورت مسئلہ یہ ہے کہ اس غلام پر نکاح کیا اور حقیقت میں وہ آزاد تھا تو نام کے اعتبار سے غلام بو لا اور اشارہ کے اعتبار سے آزاد کی طرف اشارہ کیا تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک مہر مثل لازم ہو گا، اس آدمی کو غلام فرض کر کے اس کی قیمت لازم نہیں ہو گی ۔اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس آدمی کو غلام فرض کر کے اس کی جو قیمت ہو سکتی ہے وہ لازم ہو گی ۔ دلیل آگے ہے
ترجمہ : ٢ امام ابو یوسف کی دلیل ہے کہ عورت کو مال کی لالچ دی اور اس کو سونپنے سے عاجز ہو گیا تو اس کی قیمت واجب ہو گی ، اور اگر ذوات الامثال میں سے ہے تو اس کی مثل لازم ہو گی ، جیسے کی سونپنے سے پہلے مسمی غلام ہلاک ہو جائے ۔
تشریح : دو نوں مسئلوں میں امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ عورت کو مال کی لالچ دی اور شوہر اسی چیز کو دینے سے عاجز ہے اس لئے کہ نام تو مال کا لیا لیکن حقیقت میں وہ چیز مال نہیں ہے اس لئے اگر وہ ذوات القیم ہے تو اس کی قیمت واجب ہو گی ، اور اگر وہ چیز ذوات الامثال ہے تو اس کی مثل واجب ہو گی ، جیسے واقعی وہ غلام ہو تا اور اس کو سپرد کر نے سے پہلے غلام ہلاک ہو جاتا تو اس کی قیمت لازم ہو تی ہے مہر مثل لازم نہیں ہو تا اسی طرح یہاں اس کی قیمت لازم ہو گی ۔
ترجمہ : ٣ امام ابو حنیفہ فر ما تے ہیں کہ اشارہ اور تسمیہ دو نوں جمع ہوں تو اشارے کا اعتبار کیا جائے گا اس لئے کہ وہ مقصود میں زیادہ بلیغ ہے اور وہ تعریف ہے ، اس لئے گویا کہ شراب اور آزاد پر شادی کی ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ یہاں اشارے کے اعتبار سے شراب اور آزاد ہے کیونکہ شراب اور آزاد ہی کی طرف اشارہ کیا ، اور تسمیہ یعنی نام بولنے کے اعتبار سے پہلی مسئلے میں سرکہ ہے اور دوسرے مسئلے میں غلام ہے ، اور جب اشارہ اور نام دو نوں جمع ہو جائیں اور دو نوں کا مفہوم الگ الگ ہوں تو اشارہ کا اعتبار کیا جائے گا ، اس لئے کہ اس کا مقصد ہے تعریف اور اشارہ تعریف میں زیادہ بلیغ ہے اس لئے اشارہ کا اعتبار کیا جائے گا ، تو ایسا ہو گیا کہ شروع ہی سے شراب اور آزاد پر نکاح ہواور یہ دو نوں مال نہیں ہیں اس لئے مہر مثل لازم ہو گا ۔