Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

206 - 465
(١٦٢٢)  فان تزوج امرأة علی ہذا الدن من الخل فاذا ہو خمر فلہا مہر مثلہا )  ١ عند ابی حنیفة 
 ٢  وقالا لہا مثل وزنہ خلا  (١٦٢٣) وان تزوجہا علی ہذا العبد فاذا ہو حر یجب مہر المثل )
   ١ عند ابی حنیفة ومحمد وقال ابو یوسف تجب القیمة 

تشریح :  اس عبارت کا تعلق قبول الخمر کے ساتھ ہے ، کہ شراب اور سور مسلمان کے حق میں مال نہیں ہیں اس لئے مہر میں ان کا تعین کر نا صحیح نہیں ہوا اس لئے مہر مثل لازم ہو گا ۔ 
ترجمہ  :  (١٦٢٢)  اگر عورت سے سرکے کے اس مٹکے پر نکاح کیا حالانکہ وہ  شراب تھی تو عورت کے مہر مثل ہو گا ۔
 ترجمہ  :   ١  امام ابو حنیفہ  کے نزدیک ۔ 
تشریح :   عورت سے نکاح اس مٹکے پر کیا  لیکن اس میں شراب تھی تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک مہر مثل لازم ہو گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اشارہ کیا شراب کی طرف اور منھ سے بو لاسرکہ تو کوئی بھی مہر متعین نہ ہو سکا اور قاعدہ گزرا کہ مہر متعین نہ ہو تو مہر مثل لازم ہو تا ہے ، (٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ اشارہ کیا اور نام بولا ] تسمیہ کیا[ تو اس میں امام ابو حنیفہ  کے یہاں اشارہ کا اعتبار کیا جائے گا ، اور اشارے کے اعتبار سے شراب ہے جو مال نہیں ہے اور جب مہر مال نہیںہوا تو مہر مثل لازم ہو گا ۔
لغت:  الدن : مٹکہ ۔ الخل : سرکہ ۔
ترجمہ  :   ٢  اور صاحبین  نے فر ما یا کہ مٹکے کے برابر سرکہ لازم ہو گا ۔
 تشریح :  صاحبین  نے فر ما یا کہ یہاں نام کا اعتبار کیا جائے گا اشارے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور نام کے اعتبار سے سرکہ ہے اس لئے مہر متعین کر نا درست ہوا اس لئے مہر مثل لازم نہیں ہو گا ، بلکہ اس مٹکے کے وزن کے برابر سرکہ لازم ہو گا ۔ 
ترجمہ  :  ( ١٦٢٣)  اور اگر اس غلام پر نکاح کیا اور حقیقت میں آزاد تھا تو ۔ 
ترجمہ  :   ١  امام ابو حنیفہ : اور امام محمد  کے نزدیک مہر مثل لازم ہو گا ۔ اور امام ابو یوسف  کے نزدیک قیمت لازم ہو گی ۔ 
تشریح :  یہ دو مسئلے ان اصولوں پر ہیں ۔ 
اصول :  امام ابو حنیفہ  کا اصول یہ ہے کہ اشارہ اور مسمی میں اتحاد جنس ہو یا اختلاف جنس ہو ہر حال میں اشارے کا اعتبار ہو گا ، اور اشارے کے اعتبار سے پہلے مسئلے میں شراب ہے اور دوسرے مسئلے میں آزاد ہے جو مال نہیں ہیں اس لئے ہر حال میں مہر مثل لازم ہو گا ۔     
 اصول:  امام ابو یوسف کا صول یہ ہے کہ ہر حال میں مسمی کا اعتبار ہو گا ، اور مسمی کے اعتبار سے مال ہے ، پہلے مسئلے میں سرکہ اور دوسرے مسئلے میں غلام ،اس لئے اس کی قیمت لازم ہو گی ۔مسمی کا معنی  ہے متعین کیا ہوا مہر ، اور یہی معنی تسمیہ کا بھی ہے ۔ 

Flag Counter