Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

205 - 465
  ١   لان الموصوف منہا یثبت فی الذمة ثبوتاً صحیحاً (١٦٢١) فان تزوج مسلم علی خمر او خنزیر فالنکاح جائز ولہا مہر مثلہا   ١  لان شرط قبول الخمر شرط فاسد فیصح النکاح ویلغو الشرط ٢ بخلاف البیع لانہ یبطل بالشروط الفاسدة ٣ لکن لم تصح التسمےة لما ان المسمی لیس بمال فی حق المسلم فوجب مہر المثل 

ترجمہ  :    ١  اس لئے کہ جو اتنی باتوں سے متصف ہو تو وہ ذمے میں ثبوت صحیح کے طور پر ثابت ہو تا ہے ۔ 
تشریح :   اگر مہر میں کیلی چیز جیسے گیہوں ، چاول ، یا وزنی چیز جیسے لو ہا تانبا متعین کیا اور اس کی جنس متعین کی لیکن صفت متعین نہیں کی تو شوہر کو اس چیز کا اوسط دینے کا اختیار ہے اور اس کی قیمت بھی دینے کا اختیار ہے ۔
وجہ :  اس کی وجہ یہ ہے کہ صفت متعین نہ کر نے کی وجہ سے پورے طور پر متعین نہیں ہوئی اس لئے یہ  کیلی اور وزنی چیز کپڑے کی طرح ذوات القیم ہو گئی ، اور پیچھے گزرا کہ ذوات القیم ہو تو اس میں اصل قیمت ہے اس لئے اوسط قیمت دینے کا بھی شوہر کو اختیار ہو گا ، اور اوسط چیز دینے کا بھی اختیار ہو گا ۔ اور اگر کیلی اور وزنی چیز کی جنس کے ساتھ صفت بھی متعین کر دی تووہ ذوات الامثال بن گئی اور ذمے میں پورے طور پر ثبوت صحیح کے طور پر ثابت ہو گئی اس لئے اب اسی چیز کا اوسط لازم ہو گا ، اس کی قیمت دینے کا شوہر کو اختیار نہیں ہو گا ۔
ترجمہ  :  (١٦٢١) اگر مسلمان نے شراب اور سور پر نکاح کیا تو نکاح جائز ہے ، اور عورت کے لئے مہر مثل ہو گا ۔  
ترجمہ  :   ١  اس لئے کہ شراب کے قبول کر نے کی شرط شرط فاسد ہے اس لئے نکاح صحیح ہو گا اور شرط لغو ہوجائے گی ۔ 
تشریح :   مسلمان نے شراب یا سور پر نکاح کیا تو نکاح تو ہو جائے گا ، البتہ شراب اور سور مسلمان کے لئے حرام ہیں اس لئے مہر میں اس کی شرط لگا نا شرط فاسد ہے اور شرط فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہو تا اس لئے نکاح تو درست ہو جائے گا ، البتہ شرط فاسد خود ختم ہو جائے گی، تو گویاکہ بغیر مہر ہی کے نکاح کیا اس لئے مہر مثل لازم ہو گا ۔ 
وجہ :   شراب اور سور مال نہیں ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے ۔یآیھاالذین آمنوا  انما الخمر و المیسر و الانصاب و الازلام رجس من عمل الشیطان (  آیت٩٠، سورة المائدة ٥)   
ترجمہ  :  ٢  بخلاف بیع کے اس لئے کہ شرط فاسد سے بیع فاسد ہو جاتی ہے ۔ 
تشریح :  اگر مسلمان نے شراب یا سور کی بیع کی تو خود بیع ہی فاسد ہو جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیع شرط فاسد سے فاسد ہو جاتی ہے اس لئے شراب یاسور کی شرط لگانے سے خود بیع ہی فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ  :  ٣  لیکن مہر متعین کر نا صحیح نہیں ہوا اس لئے کہ مسمی مسلمان کے حق میں مال نہیں ہے اس لئے مہر مثل واجب ہوا ۔ 

Flag Counter