Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

203 - 465
(١٦١٧) وان تزوجہا علی ثوب غیر موصوف فلہا مہر المثل )  ١   ومعناہ انہ ذکر الثوب ولم یزد علیہ  ٢  ووجہہ ان ہذہ جہالة الجنس لان الثیاب اجناس  (١٦١٨) ولو سمی جنسا بان قال ہروی تصح التسمےة ویخیر الزوج    ١   لما بینا 

پتہ اس کی قیمت ہی سے چلے گا ، جس حیوان] مثلا گھوڑے [ کی قیمت زیادہ ہو گی وہ اعلی ہو گا ، اور جسکی قیمت کم ہو گی وہ ادنی حیوان ہو گا ، اور جس کی قیمت اس کے درمیان میں ہے وہ اوسط ہو گا ، تو چونکہ قیمت ہی سے  اوسط کا پتہ چلتا ہے اس لئے دینے میںقیمت اصل ہوئی ، اس لئے قیمت دینے کا بھی اختیار ہوا ، اور مہر متعین کرتے وقت مثلا غلام کا ]یا گھوڑے[ کا تعین ہوا تھا اس لئے تعین کے اعتبار سے وہ بھی اصل ہو گیا ، اس لئے شوہر کو دو نوں دینے کا اختیار ہو گا ۔     
لغت:  الایفاء : وعدہ پورا کر نا ، دینا۔ العبد : غلام ، شارح نے مثال کے طور پر العبد کہا ہے ورنہ متن میں یہ لفظ نہیں ہے ۔ بعض نسخے میں العین ، کا لفظ ہے ، یعنی عین شیء جو مہر میں متعین ہو اسکو بھی دینے کا اختیار ہو گا ۔  
اصول :   عین شیء کا اوسط دینے کا بھی اختیار ہے ، اور اس کی قیمت دینے کا بھی اختیار ہے ۔ 
ترجمہ  :  (١٦١٧)  اور اگر شادی کی ایسے کپڑے پر جس کی صفت بیان نہ کی گئی ہو تو عورت کے لئے مہر مثل ہوگا۔ 
 ترجمہ  :    ١  اس کا معنی یہ ہے صرف ثوب کا لفظ بولا اور اس سے اور نوع کا اضافہ نہیں کیا ۔
تشریح  کپڑا بہت قسم کا ہوتا ہے ہر قسم کا کپڑا الگ الگ جنس ہے ۔ اس لئے اس کی نوع بیان نہ کرے اور اس کی صفت بیان نہ کرے  تو کپڑے کا تعین نہیں ہو سکے گا اور اس کا اوسط معلوم نہیں ہو گا ، اس لئے مہر مجہول ہو گیا اس لئے مہر مثل لازم ہو گا ۔ 
 اصول  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ جہالت کاملہ ہو تو گویا کہ مہر متعین نہیں ہوا اس لئے مہر مثل لازم ہوگا۔
ترجمہ  :  ٢  اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنس کی جہالت ہے اس لئے کہ ثوب مختلف جنس کا ہو تا ہے ۔ 
تشریح :  ثوب کالفظ بہت سے کپڑوں کو شامل ہے اس لئے گو یا کہ اس میں کپڑے کی بہت سی جنس شامل ہیں ، جیسے کہے کہ دابہ پرنکاح کیا تو اس میں بہت سے جانور شامل ہیں اس لئے مہرمجہول ہو گیا 
 ترجمہ  :  (١٦١٨)  اور اگر جنس کا نام لیا اس طرح کہ کہا ہروی کپڑ ا ہے متعین کر نا صحیح  ہے اور شوہر کو اختیار ہو گا ۔  
 ترجمہ  :   ١  اس وجہ سے جو ہم نے بیان کیا ۔ 
 تشریح :  کپڑے کے ساتھ اس کی جنس متعین کر دی ، مثلا کہا کہ ہروی کپڑا ہے تو مہرمتعین کر نا صحیح ہے کیونکہ جنس متعین کر نے کے بعد اس کپڑے کے اوسط کو متعین کر نا آسان ہو گیا اور شوہر کواختیار ہو گا کہ چا ہے تو اوسط ہروی کپڑا دے دے ، اور چا ہے تو اس کی قیمت دے دے ، اور دلیل وہی ہے جو اوپر گزری کہ قیمت ہی سے اوسط کا پتہ چل سکتا ہے اس لئے قیمت دینے کا بھی اختیار ہے ، اور 

Flag Counter