Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

202 - 465
 ٥  بخلاف جہالة الجنس لانہ لا واسطة لاختلاف معانی الاجناس  ٦  وبخلاف البیع لان مبناہ علی المضایقة والمماکسة اما النکاح فمبناہ علی المسامحة  ٧    وانما یتخیر لان الوسط لا یعرف الا بقیمة فصارت اصلا فی حق الایفاء والعبد اصل تسمےة فیتخیر بینہما 

جبکہ کم سے کم اس چیز کی جنس معلوم ہو ، اور اگر جنس کا بھی تعین نہیں کیا بہت سی جنسیں شامل ہو جائیں گی ، اس لئے تعین صحیح نہیں ہو گا ، اور مثل لازم ہو جائے گا ۔  
 لغت :  اعلام الجنس : جنس کا معلوم ہو نا ۔مہر میں کم سے کم اس کی جنس معلوم ہو کہ وہ کون سی چیز ہے ، گھوڑا یا گدھا ۔ جید : اچھا ، اعلی ۔الردی : گھٹیا، ادنی ۔الوسط : درمیانہ ، بیچ کا ۔ ذوحظ منھما : دو نوں کا حصہ لئے ہوا ہے ، یعنی اوسط درجہ جو کچھ اعلی کا حصہ بھی لئے ہوا ہے اور کچھ ادنی کا حصہ بھی لئے ہوا ہے ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اوسط شوہر کا حصہ بھی لئے ہوا ہے اور بیوی کا حصہ بھی لئے ہوا ہے۔
ترجمہ  :  ٥  بخلاف جنس کی جہالت کے اس لئے کہ کوئی واسطہ نہیںہے اجناس کے معانی کے اختلاف کی وجہ سے ۔ 
تشریح :   جنس کا تعین نہ ہو تو اوسط نہیں نکل سکتا ، کیونکہ بہت سے جنسوں میں کس کا اوسط نکالا جائے گا ، مثلا کہا کہ دابہ ]جانور [ مہر میں ہے اور دابہ میں گھوڑا ، گدھا ، بکری ، گائے ، بھیس سب داخل ہیں تو کسکا اوسط نکالیں ، کیونکہ ایک دوسرے کے اوسط میںکوئی واسطہ نہیں ہے ، اس لئے جنس کی جہالت ہو تو نہ اس کا اوسط نکل سکے گا اور نہ مہر متعین ہو سکے گا ، اس لئے اس وقت مہر مثل لازم ہو گا ۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                       
لغت :   لاختلاف معانی الاجناس : بہت سے جنس ہوں، مثلا گھوڑا ، گدھا ، بکری ، گائے ، بھیس تو ہر ایک کے معانی اور قیمت میں بہت بڑا فرق رہتا ہے، اس کو٫ اختلاف معانی الاجناس ، کہتے ہیں ۔ 
ترجمہ  :  ٦   بخلا بیع کے اسلئے کہ اس کی بنیاد تنگی پر ہے ، اور بہر حال نکاح تو اس کی بنیاد سہولت پر ہے ۔ 
تشریح :   بیع کی بنیاد تنگی پر اس لئے اس میںحیوان کی جنس کے ساتھ وصف بھی متعین ہو نا ضروری ہے تب بیع درست ہو گی ، اور نکاح کی بنیاد سہولت پر ہے اس لئے یہاں صرف جنس بیان کر دے صفت بیان نہ بھی کرے تب بھی مہر درست ہو جائے گا ۔ 
لغت :   مضایقة : ضیق سے مشتق ہے ، تنگی ۔ مماکسة : مکس سے مشتق ہے ، روکنا ، یہاں مراد ہے تنگی کر نا ۔ مسامحة : سمح سے مشتق ہے ،آسان کر نا ،معاف کر نا ، یہاں مراد ہے سہولت ۔ 
ترجمہ  :  ٧    شوہر کو قیمت دینے کا اختیار ہو گا اس لئے کہ اوسط قیمت ہی سے پہچا نا جاتا ہے ، اس لئے دینے کے حق میں قیمت اصل ہو گئی ، اور غلام اصل ہے متعین کر نے کے اعتبار سے اس لئے شوہر کو دو نوں کا اختیار ہو گا ۔ 
تشریح :  متن میں فر ما یا کہ شوہر کو اختیار ہے چا ہے اوسط حیوان دے دے اور چا ہے تو اوسط حیوان کی قیمت دے دے ، تو  یہاں مہر میں حیوان متعین ہو اہے پھر بھی اوسط حیوان کی قیمت دینے  کا اختیار کیوں دیا گیا اس کی وجہ بیان فر ما رہے ہیں ۔کہ اوسط حیون کا 

Flag Counter