١ قال معنی ہذہ المسألة ان یسمی جنس الحیوان دون الوصف بان یتزوجہا علی فرس او حمار اما اذا لم یسم الجنس بان یتزوجہا علی دابة لاتجوز التسمےة و یجب مہرالمثل ٢ وقال الشافعی یجب مہر المثل فی الوجہین جمیعا لان عند ہ مالایصلح ثمناً فی البیع لایصلح مسمی اذ کل واحد منہما معاوضة ٣ ولنا انہ معاوضة مال بغیر مال فجعلنا ہ التزام المال ابتداء حتی لایفسد باصل الجہالة کالدےة والاقاریر
لھا صداقا حتی مات ص ٢٩٥ نمبر ٢١١٦) اس حدیث میں ہے کہ نہ کم ہو اور نہ زیادہ ہو(٤) آیت میں بھی ایسے موقع پر معروف کا فیصلہ ہوتا ہے یعنی جو عام معاشرہ میں رائج ہے وہ لازم ہوگا۔وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین (آیت ٢٤١ سورة البقرة٢) البتہ اوسط کا پتہ قیمت سے چلے گا ۔اس لئے شوہر کو یہ بھی حق ہے کہ اوسط جانور خرید کر دیدے۔اور یہ بھی اختیار ہے کہ اوسط جانور کی قیمت بیوی کو سپرد کردے۔کیونکہ اوسط کا پتہ قیمت ہی سے چلے گا۔ اس لئے قیمت بھی سپرد کر سکتا ہے۔
ترجمہ : ١ اس مسئلے کا معنی یہ ہے کہ حیوان کی جنس متعین کرے صفت متعین نہ کرے ، اس طور پر کہ گھوڑے یا گدھے پر شادی کرے ، بہر حال اگر جنس متعین نہ کرے اس طور پر کہ دابہ پر نکاح کرے تو تسمیہ جائز نہیں ہے اور مہر مثل واجب ہو گا ۔
تشریح : متن میں ٫ حیوان غیر موصوف ، ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جنس متعین ہو یعنی کون سا جانور ہے گھوڑا یا گدھا ، اور صفت متعین نہ ہو کہ اعلی درجے کا گھوڑا ہے یا ادنی تب نکاح ہو گا ، اور اگر جنس بھی متعین نہ ہو یعنی مطلقا بو لا کہ مہر میں جانور ہے لیکن یہ نہیں بولا کہ کون سا جانور ہے گھوڑا یا گدھا تو مہر بھی متعین نہیں ہو گا اس لئے مہر مثل لازم ہو جائے گا۔
لغت : جنس : بہت سارے نوع کو شامل ہو اس کو جنس کہتے ہیں ، جیسے دابة : ]جانور[ میں گھوڑا گدھا وغیرہ سب شامل ہیں ، اور گھوڑا اس کا ایک نوع ہے جسکو یہاں ایک جنس کہا ہے ۔دابة : بہت سے جانور ۔ مسمی : جو مہر متعین ہو اس کو مسمی کہتے ہیں ۔
ترجمہ : ٢ امام شافعی نے فر ما یا کہ دو نوں صورتوں میں مہر مثل لازم ہو گا اس لئے کہ انکے نزدیک بیع میں جو قیمت نہ بن سکتی ہو وہ مسمی نہیں بن سکتی ہے ، اس لئے کہ مہر اور قیمت دو نوں معاوضہ ہیں ۔
تشریح : امام شافعی نے فر ما یا کہ دو نوں صورتوں میں مہر مثل لازم ہو گا ، یعنی جنس متعین کیا ہو تب بھی اور نوع متعین کیا ہو تب بھی ، اس لئے کہ مہر بضع کی قیمت ہے ، اس لئے جس طرح بیع کی قیمت متعین ہو تب صحیح ہو تی ہے اسی طرح مہر میں حیوان متعین ہو تب مہر بنے گا اور مہر مثل لازم نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : ٣ ہماری دلیل یہ ہے کہ نکاح مال کا معاوضہ بغیر مال کے ساتھ ہے اس لئے ہم نے شروع میں التزام مال قرار دیا ، یہاں تک کہ اصل جہالت سے بھی فاسد نہ ہو، جیسے دیت اور اقرار ۔