Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

199 - 465
  ٦ والواجب فی الطلاق قبل الدخول فی مثلہ المتعة ونصف الاوکس یزید علیہا فی العادة فوجب لاعترافہ بالزیادة  (١٦١٦) واذا تزوجہا علی حیوان غیر موصوف صحت التسمےة ولہا الوسط منہ والزوج مخیر ان شاء اعطاہا ذلک وان شاء اعطاہا قیمتہ )

ترجمہ  :  ٦  ایسی صورت میں دخول سے پہلے طلاق ہو نے میں متعہ واجب ہے ، اور ادنی غلام کا آدھا عادة متعہ کی قیمت سے زیادہ ہو تا ہے ، اس لئے شوہر کے زیادہ اعتراف کر نے کی وجہ سے آدھا غلام دلوایا جاتا ہے ۔ 
تشریح :  یہ بھی اشکال کا جواب ہے ۔ اشکال یہ ہے کہ اس صورت میں جب مہر مثل واجب ہے ، تو دخول سے پہلے طلاق کی صورت میں متعہ واجب ہو نا چا ہئے تو آپ ادنی غلام کا آدھا کیوں دلواتے ہیں ؟ اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ ، دخول سے پہلے طلاق ہو نے کی صورت میں ادنی غلام کا آدھا دینے پر خود شوہر راضی ہے، کیونکہ ادنی غلام دینے کے لئے وہ خود راضی ہے ، اور عموما  ادنی غلام کی آدھی قیمت تین کپڑے سے زیادہ ہو تی ہے اس لئے متعہ کے بجائے آدھا غلام دلوا دیتے ہیں ، ورنہ حقیقت میں متعہ ہی دلوانا چا ہئے ۔ 
ترجمہ  :  (١٦١٦)  اگر عورت سے شادی کی بغیر وصف بیان کئے ہوئے جانور پر تو تعین صحیح ہے اور عورت کے لئے اس کا وسط ہوگا۔اور شوہر کو اختیار ہے اگر چاہے تو عورت کو جانور کا وسط دیدے۔اور اگر چاہے تو اس کو اس کی قیمت دیدے۔  
تشریح:  عورت سے حیوان پر شادی کی اور اس کی جنس بیان کی کہ مثلا گھوڑے پر شادی کرتا ہوں لیکن اس کی صفت بیان نہیں کی کہ اعلی درجے کا گھوڑا ہوگا یا ادنی درجے کا تو ایسی صورت میں مہر صحیح ہو جائے گا۔لیکن وسط گھوڑا لازم ہوگا جو قیمت کے اعتبار سے نہ اعلی ہو اور نہ ادنی ہو ۔
 وجہ:  (١) اس حدیث میں ہے کہ گٹھلی کے برابر سو نا دیا تو اس میں گٹھلی تو متعین ہے لیکن اس کی قسم متعین نہیں ہے پھر بھی نکاح ہو گیا ، جس سے معلوم ہوا کہ صفت متعین نہ ہو تب بھی نکاح ہو جائے گا کیوںکہ نکاح کا معاملہ تھوڑی سہولت پر ہے ۔ حدیث یہ ہے۔عن انس أن عبد الرحمن بن عوف تزوج امراة علی وزن نواة  فرأی النبی بشاشة العروس فسالہ فقال انی تزوجت امرأة علی وزن نواة۔۔ من ذھب ۔ ( بخاری شریف ، باب قولہ تعالی و آتوا النساء صد قاتھن نحلة ، ص ٩٢٠، نمبر ٥١٤٨)(٢)  اور اوسط لازم ہو گا اس کی  دلیل یہ ہے ،کہ اوسط دینے میں کسی کا نقصان نہیں ہے۔نہ دینے والے کا اور نہ لینے والے کا (٣) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔ایک عورت کا مہر متعین نہیں تھا اور اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے وسط کا فیصلہ فرمایا تھا۔اس میں یہ جملہ ہے۔فقال ابن مسعود لھا مثل صداق نسائھا لا وکس ولا شطط (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الرجل یتزوج المرأة فیموت عنھا قبل ان یفرض لھا ص ٢١٧ نمبر ١١٤٥ ابو داؤد شریف، باب فیمن تزوج ولم یسم 

Flag Counter