Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

197 - 465
(١٦١٥) فان طلقہا قبل الدخول بہا فلہا نصف الاوکس فی ذلک کلہ  )  ١   بالاجماع  ٢   لہما ان المصیر الی مہر المثل لتعذر ایجاب المسمیٰ وقد امکن ایجاب الاوکس اذا الاقل متیقن وصار کالخلع والاعتاق علی مال ٣  ولابی حنیفة ان الموجب الاصلی مہر المثل اذہو الاعدل والعدول عنہ عند صحة التسمےة وقد فسدت لمکان الجہالة 

ترجمہ  :   ( ١٦١٥)  اور اگر عورت کے دخول سے پہلے طلاق ہو گئی تو بالاتفاق ان تمام صورتوں میں ادنی غلام کا آدھا ہو گا ۔
ترجمہ  :    ١  سب کے نزدیک ۔
تشریح :  صورت وہی ہے کہ یہ غلام مہر میں ہو گا یا وہ غلام ، اور دخول سے پہلے طلاق ہو گئی تو سب کے نزدیک جو ادنی غلام ہے اس کا آدھا، یعنی اس کے آدھے کی قیمت لازم ہو گی ۔ 
وجہ :  (١) صاحبین  کے نزدیک تو اس لئے کہ انکے یہاں ہر حال میں ادنی غلام ہے اس لئے دخول سے پہلے طلاق واقع ہو نے کی وجہ سے اس کا آدھا لازم ہو گا ، اور حضرت امام ابو حنیفہ  کے نزدیک اصل تو مہر مثل تھا ، اور دخول سے پہلے طلاق واقع ہوئی اس لئے متعہ لازم ہو نا چا ہئے تھا ، لیکن ادنی غلام کی آدھی قیمت متعہ کے قریب قریب ہو تی ہے ] یعنی تین کپڑے کی قیمت کے قریب ہوتی ہے[ اس لئے ادنی غلام کی آدھی قیمت لازم کر دی جائے گی ۔ (٢) شوہر ہر حال میں ادنی غلام تو دینا ہی چا ہتا تھا اس لئے دخول سے پہلے طلاق ہو نے کی وجہ سے اس کا آدھا لازم ہو نا چا ہئے ۔ 
 ترجمہ  :  ٢  صاحبین  کی دلیل یہ ہے کہ مہر مثل کی طرف جا نا متعین مہر کے واجب کر نے کے متعذر ہو تے وقت ہو تا ہے ، اور یہاں ادنی کو واجب کر نا ممکن ہے اس لئے کہ کم درجہ متیقن ہے اس لئے خلع اور مال کے بدلے میں آزاد کی طرح ہو گیا ۔ 
تشریح :   صاحبین  کا اصول یہ ہے کہ جب تک ہو سکے متعین مہر لازم کیا جائے ،] جسکو مہر مسمی کہتے ہیں [ وہ نہ ہو سکے تب مہر مثل ہو گا ، اور یہاں ادنی غلام کو مہر متعین کر نا ممکن ہے ، کیونکہ وہ دینا یقینی ہے ، اعلی غلام دیگا تب بھی ادنی اس کے تحت میں آہی جائے گا ، اس لئے مہر مثل کی طرف نہیں جائے گا ادنی غلام لازم کیا جائے گا ۔ اس کی دو مثالیں دے رہے ہیں ]١[ اگر اس طرح خلع کیا ہو کہ ٫میں نے اس غلام پر خلع کیا یا اس غلام پر ،اور ایک غلام اعلی ہو اور دوسرا ادنی ہو تو سب کے  نزدیک ادنی غلام لازم ہو گا ۔]٢[ یا آقا نے کہا میں نے اس غلام کے بدلے آزاد کیا یا اس غلام کے بدلے ، تو یہاں بھی ادنی غلام ہی لازم ہو تا ہے ، اسی طرح مہر میں بھی ادنی ہی لازم کیا جائے گا ۔ 
ترجمہ  :   ٣  امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ اصلی وجوب مہر مثل ہے ، اس لئے کہ وہی انصاف کی چیز ہے ، اور مہر مثل سے عدول کر نا تعین کے صحیح ہو تے وقت ہو تا ہے ، اور جہالت کی وجہ سے تعین فاسد ہو گیا ]اس لئے مہر مثل لازم ہو گا [ ۔

Flag Counter