٢ وقالا الشرطان جمیعا جائزان حتی کان لہا الالف ان اقام بہا و الالفان ان اخرجہا ٣ وقال زفر الشرطان جمیعا فاسد ان ویکون لہا مہر مثلہا لاینقص من الف ولایزاد علی الفین ٤ واصل المسألة فی الاجارات فی قولہ ان خطتہ الیوم فلک درہم وان خطتہ غدا فلک نصف درہم و سنبینہا فیہ ان شاء اللہ
ایک ہزار مہر ہو گا ، اور شہر سے باہررکھے گا تو دو ہزار درہم مہر ہو گا ، پس اگر گھر پر رکھا تو ایک ہزار مہر ہو گا کیونکہ شرط یہی ہے ، لیکن اگر شہر سے باہر رکھا تو امام ابو حنیفہ کی رائے ہے کہ دو ہزار مہر نہیںہو گا بلکہ مہر مثل لازم ہو گا ، لیکن مہر مثل بھی اتنا کہ دو ہزار سے زیادہ نہ ہو ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں رکھا تو وعدے کے مطابق کیا اس لئے ایک ہزار ملے گا ، اور شہر میں نہیں رکھا تو عورت کو نقصان ہوا اس لئے وہ ایک ہزار پر راضی نہیں ہو گی ، اور دو ہزار شرط پر معلق ہے اس لئے وہ بھی طے نہیں ہوا ، اور پہلے قاعدہ گزرا کہ مہر طے نہ ہو تو مہر مثل لازم ہو تا ہے ، اس لئے گھر پر نہ رکھنے کی صورت میں مہر مثل لازم ہو گا ۔
ترجمہ : ٢ اور صاحبین نے فر ما یا کہ دو نوں شرطیں جائز ہیں ، یہاں تک کہ اگر عورت کو گھر میں ٹھہرایا تو ایک ہزار ہو گا ، اور اگر اس کو باہر نکالا تو دو ہزار ہو گا ۔
تشریح : صاحبین فر ما تے ہیں کہ دو نوں شرطیں جائز ہیں ، اور جس شرط کے مطابق کرے گا اسی کے مطابق مہر لازم ہو گا ، یعنی گھر میں رکھے گا تو ایک ہزار اور باہر نکالے گا تو دو ہزار لازم ہو گا ۔
وجہ : (١) انکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن عقبة عن النبی ۖ قال احق ما اوفیتم من الشروط ان تو فوا بہ ما استحللتم بہ الفروج ۔ ( بخاری شریف باب الشروط فی النکاح ، ص ٩٢١، نمبر ٥١٥١) اس حدیث میں ہے کہ نکاح کی شرط پوری کیا کرو ۔(٢) اس حدیث میں بھی ہے ۔و قال النبی ۖ المسلمون عند شروطھم۔( بخاری شریف ، باب اجر السمسرة ، ص ٣٦٣، نمبر ٢٢٧٤) اس حدیث میں ہے کہ مسلمان پر شرط کی رعایت ضروری ہے ۔
ترجمہ : ٣ امام زفر نے فر ما یا کہ دو نوں شرط فاسد ہیں اور عورت کے لئے مہر مثل ہو گا جو ایک ہزار سے کم نہ ہو اور دو ہزار سے زائد نہ ہو ۔
تشریح : امام زفر فر ما تے ہیں کہ دو نوں شرط فاسد ہیں اس لئے گھر میں رکھے تب بھی اور باہر لیجائے تب بھی مہر مثل لازم ہو گا ، وہ فر ماتے ہیں کہ شرط پر مہر کو معلق کر نا ایسا ہے کہ کوئی مہر ہی متعین نہیں ہوا ، اور قاعدہ گزرا کہ مہر متعین نہ ہو تو مہر مثل لازم ہو گا ، اس لئے دو نوں صورتوں میں مہر مثل لازم ہو گا ۔اور یہ بھی خیال رہے کہ مہر مثل دو ہزار سے زائد نہ ہو اور ایک ہزار سے کم نہ ہو ۔
ترجمہ : ٤ اصل مسئلہ کتاب الاجارات میںقولہ: ان خطتہ الیوم فلک درہم و ان خطتہ غدا فلک نصف