Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

194 - 465
(١٦١٢) وان تزوج علیہا اخری او اخرجہا فلہا مہر مثلہا )  ١  لانہ سمی مالہا فیہ نفع فعند فواتہ ینعدم رضاہا بالالف  فیکمل مہر مثلہا کما فی تسمےة الکرامة والہدےة مع الالف (١٦١٣) ولو تزوجہا علی الف ان اقام بہا وعلی الفین ان اخرجہا فان اقام بہا فلہا الالف وان اخرجہا فلہا مہر المثل لایزاد علی الفین ولاینقص عن الالف )  ١ وہذا عند ابی حنیفة 

ترجمہ  :  (١٦١٢)  اور اگر اس پر دوسری شادی کی یا اس کو شہر سے نکالا تو عورت کے لئے مہر مثل ہے ۔ 
 تشریح :   لیکن اگر شرط پوری نہیں کی ، بلکہ عورت کو شہر سے باہر لے گیا ، یا عورت کے رہتے ہوئے دوسری عورت سے نکاح کیا تو چونکہ شرط کے خلاف کیا جس میں عورت کا نفع تھا اس لئے اب عورت اس مہر پر راضی نہیں ہو گی ، اس لئے یہ مہر معدوم ہو گیا ، اس لئے اب مہر مثل لازم ہو گا ۔ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ مہر متعین نہ ہو یا اس میں گڑبڑی ہو تو مہر مثل جو اصل ہے وہ لازم ہو تا ہے ۔ 
ترجمہ  :   ١  اس لئے کہ وہ شرط لگائی جس میں عورت کا نفع ہے اس لئے اس کے فوت ہو تے وقت ہزار پر عورت کی رضامندی فوت ہوجائے گی اس لئے عورت کا مہر مثل مکمل کیا جائے گا ، جیسا کہ ہزار کے ساتھ عزت کر نے اور ہدیہ دینے کا بھی تعین ہو ۔ 
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے کہ ، ایک ہزار کے ساتھ شہر سے باہر نہ نکلنے کی شرط لگائی ہے ، یا شادی نہ کر نے کی شرط لگائی ہے جس میں عورت کا فائدہ ہے اور اس کے فوت ہو نے سے وہ ایک ہزار پر راضی نہیں ہو گی اس لئے اب اصل یعنی مہر مثل کی طرف رجوع کیا جائے گا اور وہ لازم ہو گا ۔ جیسے یہ طے ہوا ہو کہ ایک ہزار کے ساتھ عورت کی عزت بھی کرے گا ، یا ایک ہزار کے ساتھ عورت کو ہدیہ بھی دے گا ، تو ہدیہ نہ دے یا عزت نہ کرے تو مہر مثل لازم ہو گا  ، ایسے ہی یہاں بھی مہر مثل لازم ہو گا ۔  
لغت:   یکمل مہر مثلھا : اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ]١[ اگر مہر مثل ایک ہزار سے زیادہ ہے تو مہر مثل دلوایا جائے گا ، کیونکہ عورت اس سے کم پر راضی نہیں ہو گی ۔ ]٢[ اور اگر مہر مثل ایک ہزار سے کم ہے تب ایک ہزار دلوایا جائے گا ، کیونکہ شوہر نے ایک ہزار دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ ]٣[ اور اگر مہر مثل ایک ہزار کے برابر ہے تو دو نوں میں سے کوئی بھی دے دو کافی ہے ، حاصل یہ ہے کہ مہر مثل کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا ، یہی ترجمہ ہے ٫یکمل مہر مثلھا ، کا۔ 
ترجمہ  :  ( ١٦١٣)  اور نکاح کیا ایک ہزار پر اگر عورت کو شہر میں رکھے ، اور دو ہزار پر اگر اس کو شہر سے نکالے ، پس اگر اس کو شہر میں رکھا تو عورت کے لئے ایک ہزار ہے اور اگر اس کو شہر سے نکا لا تو اس کے لئے مہر مثل ہے جو دو ہزار سے زیادہ نہ ہو اور ایک ہزار سے کم نہ ہو ۔
ترجمہ  :    ١  یہ امام ابو حنیفہ  کے نزدیک ہے ۔
تشریح :  اس مسئلے میں مہر شرط پر رکھا ہے اور اجارات کا اصول جاری ہوا ہے  ، صورت مسئلہ یہ ہے کہ اگر گھر پر عورت کو رکھے گا تو 

Flag Counter