Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

192 - 465
٢   وجہ الاستحسان ان حقہ عند الطلاق سلامة نصف المقبوض من جہتہا وقد وصل الیہ ولہذا لم یکن لہا دفع شیٔ اٰخر مکانہ  ٣   بخلاف ما اذا کان المہر دینا ٣   وبخلاف ما اذا باعت من زوجہا لانہ وصل الیہ ببدل  (١٦١٠) ولو تزوجہا علی حیوان او عروض فی الذمة فکذلک الجواب )
 ١   لان المقبوض متعین فی الرد  

سامان کی آدھی قیمت واپس لے سکتا ہے ۔ 
 ترجمہ : ٢  استحسان کی وجہ یہ ہے کہ شوہر کا حق طلاق دیتے وقت عورت کی جانب سے قبضہ کئے ہوئے کا آدھا کا سالم رہنا ہے ، اور یہ شوہر کو پہونچ گیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ قبضہ کی ہوئی چیز کے بجائے دوسری چیز عورت کے لئے دینا ٹھیک نہیں ہے ۔
تشریح :  استحسان کی وجہ یہ ہے کہ شوہر کا حق یہ تھا کہ جو چیز قبضہ کیا عورت کی جانب سے اس کا آدھا اس کو پہنچ جائے اور وہ پہنچ گئی اس لئے مزید اس کو لینے کا حق نہیں ہو گا ۔وہی چیز ملنے کی علامت یہ ہے کہ وہ چیز رہتے ہوئے عورت اس کے بجائے دوسری چیز دینا چا ہے تو دینا ٹھیک نہیں ہے ۔
ترجمہ :  ٣  بخلاف جبکہ مہر دین ہو ۔
تشریح :  یہاں دین سے مراد درہم اور دینار ہیں ، جو متعین کر نے سے متعین نہیں ہوتے ، صورت مسئلہ یہ ہے کہ مہر میںایک ہزار درہم تھا ، عورت نے اس پر قبضہ کیا ، اور پھر وہی درہم شوہر کو ہبہ کر دیا ، تو چونکہ درہم متعین کر نے سے متعین نہیں ہو تا ، اس لئے یہ سمجھا جائے گا کہ یہ شوہر والا درہم نہیں ہے بلکہ عورت کا اپنا درہم ہے جو ہبہ کیا ، اس لئے شوہر کو آدھا مہر واپس لینے کا حق ہو گا ۔  
ترجمہ :   ٤  اور بخلاف جبکہ عورت نے شوہر سے وہی چیز بیچی اس لئے کہ شوہر کوبدلے میں ملی ۔ 
تشریح :  عورت نے جو متعین کیلی اور وزنی چیز شوہر سے مہر میںلی اس کو شوہر کے ہاتھ میں بیچ دیا تو شوہر کو دئے ہوئے مہر کی آدھی قیمت لینے کا حق ہو گا ۔ 
وجہ :  اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں شوہر کو اپنی چیز ملی تو ضرور ہے لیکن اس کو عورت سے خرید کر لیا ہے ، حالانکہ دئے ہوئے مہر کا آدھا مفت واپس آنا چا ہئے ، کیونکہ آدھا شوہر کا حق ہے ، اس لئے اس کو مہر کی آدھی قیمت واپس لینے کا حق ہو گا ۔  
ترجمہ :(١٦١٠)  اور اگرحیوان پر نکاح کیا ، یا ذمے میں سامان پر نکاح کیا تو جواب ایسے ہی ہے ]یعنی شوہر عورت سے کچھ نہیں لے سکے گا [ ۔ 
 ترجمہ :  ١   اس لئے کہ جو قبضہ کیا ہے وہ واپسی کے وقت متعین ہے ۔
تشریح : نکاح کر تے وقت کوئی متعین جانور نہیں تھا بلکہ یوں کہا کہ ایک گھوڑا مہر میں دیا جائے گا ، یعنی جنس اور نوع بیان کر دیا ، تو 

Flag Counter