(١٦٠٩) ولو کان تزوجہا علی عرض فقبضت اولم تقبض فوہبت لہ ثم طلقہا قبل الدخول بہا لم یرجع علیہا بشیٔ ) ١ وفی القیاس وہو قول زفر رجع علیہا بنصف قیمتہ لان الواجب فیہ رد نصف عین المہر علی ما مر تقریرہ
تشریح : صاحبین کا اصول گزر چکا ہے کہ عورت نے دو سو درہم شوہر کو ہبہ کیا تو گویا کہ اصل مہر ایک ہزار میں سے دو سو درہم کم کر دیا ] جسکو حط ، کہتے ہیں [اور اب مہر آٹھ سو درہم ہی رہا ، اور عورت آٹھ سو قبضہ کر چکی ہے اس لئے اس کا آدھا چار سو شوہر کو واپس دے۔
ترجمہ : ( ١٦٠٩) اگر نکاح کیا سا مان پر اور عورت نے اس پر قبضہ کیا یا نہیں کیا اور شوہر کو ہبہ کر دیا ، پھر دخول سے پہلے طلاق دے دی تو شوہر عورت سے کچھ نہیںلے گا ۔
تشریح : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ مہر ایسی چیز تھی جو متعین کر نے سے متعین ہو تی ہو اور اسی چیز کا آدھا شوہر کو مل گیا توبیوی سے کچھ نہیں لے سکے گا ، کیونکہ اس کو اپنی چیز مل گئی ۔صورت مسئلہ یہ ہے کہ کسی متعین سامان پر نکاح کیا ، اور عورت نے اس پر قبضہ کیا ، یا اس پر قبضہ نہ کیا ہو ]دو نوں کا حکم ایک ہی ہے [اور عورت نے اس چیز کو شوہر کو ہبہ کر دیا ، بعد میں دخول سے پہلے طلاق ہوئی تو شوہر عورت سے کچھ نہیں لے گا ۔
وجہ : (١) دخول سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہے تو شوہر کو اپنے مہر کا آدھا چا ہئے اور وہ مل گیا اس لئے اب مزید عورت سے کچھ نہیں لے سکے گا ۔جس صورت میں عورت نے قبضہ کیا اور پھر وہی سامان دے دیا تو شوہر کو اپنا سامان مل گیا ، جس صورت میں عورت نے سامان پر قبضہ نہیں کیا اور عورت نے وہ چیز شوہر کو دے دیا تب بھی شوہر کے پاس اس کا سامان مو جود رہا ، اس لئے مزید نہیں لے سکتا ہے ۔
ترجمہ : ١ اور قیاس میں یہ ہے اور وہی قول امام زفر کا ہے کہ سامان کی آدھی قیمت عورت سے وصول کرے اس لئے کہ اس میں عین مہر کا آدھا واپس کر نا واجب تھا ، جیسا کہ اس کی تقریر گزر چکی ۔
تشریح : قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے اور امام زفر کی رائے یہ ہے کہ عورت نے مہر کا جو سامان قبضہ کیا ہے اس کی آدھی قیمت شوہر کو واپس کرے ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ دخول سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہے اس لئے عورت پر یہ لازم تھا کہ آدھا سامان یہ کہہ کر واپس کرتی کہ یہ آدھا مہر واپس کر رہی ہوں ، اور اس نے ایسا نہیں کیا ، بلکہ پورے سامان کو ہبہ کیا ، اور ہبہ کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ میں مہر واپس نہیں کر رہی ہوں بلکہ میں الگ سے اپنی چیز دے رہی ہوں ، اس لئے شوہر کا آدھے مہر کا جوحق تھا وہ ابھی بھی باقی رہ گیا اس لئے