٥ والحط لایلتحق باصل العقد فی النکاح الا تری ان الزیادة فیہ لا تلتحق حتی لاتنصف
(١٦٠٨) ولو کانت وہبت اقل من النصف وقبضت الباقی فعندہ یرجع علیہا الی تمام النصف )
١ وعند ہما بنصف المقبوص
واپس آہی گیا ہے اس لئے اس کا مقصد حاصل ہو گیا ہے اس لئے مزید اس کو لینے کا حق نہیں دیا جائے گا ۔ ۔ صداق : مہر۔ یستوجب : واجب ہو نا ۔
ترجمہ : ٥ اور مہر کم کر نا نکاح میں اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہو تا ، کیا نہیں دیکھتے ہیں کہ مہر میں زیادتی کر نا اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہو تا یہی وجہ ہے کہ زیادتی کا آدھا نہیں ہو تا۔
تشریح : یہ صاحبین کو جواب ہے ، انہوں نے کہا تھا کہ مہر میں کمی اصل عقد کے ساتھ لاحق کیا جائے گا ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ نکاح کے بعد مہر میں کم یا زیادہ کیا جائے تو یہ دلوا یا جائے گا لیکن یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں کیا جائے گا ، یہی وجہ ہے کہ اگر دخول سے پہلے طلاق ہو جائے تو نکاح کے وقت جو مہر متعین ہوا ہے اسی کا آدھا ہوگا اور بعد میں جو زیادہ کیا اس کا آدھا نہیں دلوایا جائے گا ، مثلا نکاح کے وقت ایک ہزار درہم مہر متعین ہوا اور شوہر نے بعد میں دو سو درہم اور بڑھا دیا اور دخول سے پہلے طلاق ہوئی تو اس ایک ہزار درہم کا آدھا دلوا یا جائے گا ، مزید جو دو سو درہم زیادہ کیا تھا اس کا آدھا ایک سو نہیں دلوایا جائے گا ، کیونکہ بعد کی کمی زیادی اصل مہر کے ساتھ لاحق نہیں کیا جا تا ہے ، اسی طرح یہاں جو عورت نے ہبہ کر کے پانچ سو کم کیا ہے یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہو گا ، اور شوہر کو اس کا آدھا واپس لینے کا حق نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : (١٦٠٨) اور اگر عورت نے آدھے سے کم ہبہ کیا اور باقی پر قبضہ کیا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک عورت سے آدھے مہر تک وصول کرے گا ۔
تشریح : عورت نے آدھے سے کم ہبہ کیااور باقی مہر کو شوہر سے لے لیا ، مثلا ہزار میںسے دو سو درہم شوہر کو ہبہ کیا اور آٹھ سو درہم شوہر سے لے لیا ، اور طلاق دخول سے پہلے واقع ہوئی ہے تو امام ابو حنیفہ کے یہاں شوہر عورت سے اتنا واپس لے لے کہ آدھا مہر شوہر کے پاس آجائے ، مثال مذکور میں دو سو درہم عورت پہلے ہبہ کر چکی ہے اس لئے تین سو مزید عورت سے واپس لے لے تو پانچ سو درہم شوہر کے پاس ہو جائے گا، اسی کو ٫یرجع الی تمام النصف ، کہتے ہیں ۔
وجہ : امام ابو حنیفہ کا قاعدہ یہ ہے کہ دخول سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہے اس لئے کسی نہ کسی طرح شوہر کے پاس آدھا مہر واپس آنا چا ہئے ، چا ہے ہبہ کے ذریعہ ، یا واپس لے کر ۔
ترجمہ : ١ اور صاحبین کے نزدیک عورت نے جتنا قبضہ کیا اس کا آدھا شوہر وصول کرے گا ۔