Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

189 - 465
  ١  عند ابی حنیفة  ٢ وقالا یرجع علیہا بنصف ماقبضت اعتبارا للبعض بالکل ٣ ولان ہبة البعض حط فیلحق باصل العقد ٤ ولابی حنیفة ان مقصود الزوج حصل وہو سلامة نصف الصداق بلاعوض فلایستوجب الرجوع عند الطلاق 

ترجمہ :   ١  امام ابو حنیفہ  کے نزدیک ۔ 
تشریح :  ایک ہزار مہر تھا عورت نے اس میں سے پانچ سو شوہر سے قبضہ کیا ، پھر جو پانچ سو قبضہ کیا وہ بھی اور اپنی طرف سے پانچ سو ملا کر ایک ہزار شوہر کو ہبہ کر دیا ، بعد میں دخول سے پہلے طلاق دی تو عورت بھی شوہر سے کچھ نہیں لے سکے گی ، اور شوہر بھی عورت سے کچھ نہیں لے سکے گا ۔    
وجہ :  عورت تو اس لئے نہیں لے سکے گی ، کہ اس کا حق آدھا مہر پانچ سو درہم کا تھا وہ شوہر سے وصول کر لیا ہے ۔اور شوہر عورت سے اس لئے نہیں لے سکے گا کہ اس نے صرف پانچ سو ہی عورت کو دیا تھا جو اس کا آدھا مہر بنتا تھا ، اس لئے شوہر اب عورت سے کیا لے گا !۔ 
ترجمہ :  ٢  صاحبین  نے فر ما یا کہ عورت نے جتنا قبضہ کیا ہے شوہر اس کا آدھا واپس لے گا ، بعض کو کل پر قیاس کرتے ہوئے ۔
تشریح :  اوپر مسئلہ  نمبر ١٦٠٥ میںگزرا کہ کل ایک ہزار درہم عورت نے قبضہ کیا ہو اور پھر سب کو ہبہ کر دیا تو شوہر آدھے کے واپس لینے کا حق رکھتا ہے تو اسی پر قیاس کرتے ہوئے آدھے پر قبضہ کیا ہو اور اس کو ہبہ کر دیا تو شوہر اس کے آدھے یعنی ڈھائی سو درہم کے واپس لینے کا حق رکھتا ہے۔ تو یہاں آدھے کے قبضے کو کل پر قیاس کیا ہے ۔
ترجمہ : ٣  اور اس لئے کہ بعض کا ہبہ کر نا کم کر نا ہے اس لئے اصل عقد کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا ۔ 
تشریح :   صاحبین  کی یہ دوسری دلیل ہے ، ایک ہزار میں سے پانچ سو ہبہ کر دیا تو یوں سمجھا جائے گا کہ اصل مہر میں سے پانچ سو کم کر دیا اور اب مہر پانچ سو ہی رہا ، اور عورت نے شوہر سے پانچ سو لیا ہے تو گویا کہ کل مہر لے لیا ہے اور دخول سے پہلے طلاق واقع ہو نے کی وجہ سے وہ آدھے مہر یعنی ڈھائی سو کا مستحق تھی اس لئے شوہر کو عورت سے ڈھائی سو درہم واپس لینے کا حق ہے۔
لغت :  حط : اصل مہر میں سے کم کر نا ، ھبة البعض حط : کا مطلب یہ ہے کہ بعض مہر کو ہبہ کر نا گویا کہ اصل مہر میںسے کم کر دینا ہے ۔  
ترجمہ : ٤  امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ شوہر کا مقصد حاصل ہو گیا ہے اور وہ ہے بغیر عوض کے آدھے مہر کا سالم رہ جا نا اس لئے طلاق کے وقت رجوع کا حق نہیں ہو گا ۔ 
تشریح :  امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ عورت نے شوہر سے پانچ سو لیا تھا اور ہزار دے دیا تو شوہر  کا پانچ سو بغیر کسی بدلے کے 

Flag Counter