Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

187 - 465
والفسوخ  ٢ وکذا اذا کان المہر مکیلا اوموزونا اٰخر فی الذمة لعدم تعینہا (١٦٠٦) فان لم تقبض الالف حتی وہبتہا لہ ثم طلقہا قبل الدخول بہا لم یرجع واحد منہما علی صاحبہ بشیٔ ) ١ وفی القیاس یرجع علیہا بنصف الصداق وہو قول زفر لانہ سلم المہر لہ بالابراء فلاتبرأ عما یستحقہ 

متعین کر نے سے متعین نہیں ہو تے ۔
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے ، کہ ہبہ میں اگر چہ وہی درہم شوہر کو دیا ہے لیکن  عقد کر نے میں اور عقد کے فسخ کر نے میں درہم اور دینا رمتعین کر نے سے متعین نہیں ہو تا اس لئے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہی درہم شوہر کو دیا ، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ بیوی نے الگ سے اپنا درہم شوہر کو دیا ہے، اس لئے شوہر نے جو ایک ہزار دیا ہے اس میں آدھا ہی عورت کا حق ہے کیونکہ دخول سے پہلے طلاق دی ہے اس لئے باقی پانچ سو درہم بیوی سے واپس لے سکتا ہے ۔
ترجمہ :  ٢  ایسے ہی اگر مہر کیلی یاوزنی چیز ذمے میں ہو ، اس کے متعین نہ ہو نے کی وجہ سے ۔ 
تشریح :  کیلی چیز جیسے گیہوں چاول ، وزنی چیز جیسے لو ہا تانبا اگر یہ سامنے مو جود ہو اور اس کی طرف اشارہ کر کے متعین کیا تب تو متعین ہو جا تا ہے ، لیکن اگر کسی کے ذمے ہو مثلا چار کیلو گیہوں تمہارے ذمے ہے تو یہ متعین نہیں ہو تا ، پس اگر مثلا ایک سو کیلو گیہوں شوہر کے ذمہ ہو اس کو مہر بنا یا اور شوہر نے وہ ذمہ والا گیہوں بیوی کو دیا ، اور بیوی نے اپنی جانب سے دوسرا ایک سو کیلوگیہوں شوہر کو ہبہ  کیا اور دخول سے پہلے طلاق ہوئی تو شوہر اپنے دئے ہوئے مہر کا آدھا عورت سے واپس لے سکتا ہے ، کیونکہ عورت نے شوہر ہی کے مہر کو واپس نہیںدیابلکہ اپنی جانب سے ایک سو کیلو گیہوں ہبہ کیا ہے ۔
لغت :   موزونا آخر: یہاں موزونا آخر کا مطلب یہ ہے کہ وہ متعین نہ ہو ۔
 ترجمہ : (١٦٠٦)  اور اگر ہزار پر عورت  نے قبضہ نہیں کیا اور عورت نے شوہر کو ہزار ہبہ کر دیا پھر عورت کو دخول سے پہلے طلاق دی تو کوئی کسی پر رجوع نہیں کرے گا ۔ 
تشریح :  یہ دوسری صورت ہے کہ بیوی نے شوہر کے ایک ہزار مہر پر قبضہ نہیں کیا اور اس کو ایک ہزار درہم ہبہ کر دیا ، پھر شوہر نے بیوی کو دخول سے پہلے طلاق دی بیوی شوہر سے کچھ نہیں لے گی ، کیونکہ اس کو تو پانچ سو کے بجائے ایک ہزار مل گیا ہے  اس لئے بیوی شوہر سے کچھ نہیں لے گی ۔اور شوہر بیوی سے آدھا مہر اس لئے وصول نہیںکر پائے گا کہ جو درہم اس کے ہاتھ میں تھا وہی اس کے ہاتھ میں رہ گیا تو اس کا درہم اس کو واپس مل گیا اس لئے بھی نہیں لے سکے گا ۔اس صورت میں عورت ہبہ کرتے وقت یہ کہہ دے کہ یہ مہر کا ہی درہم واپس کر رہی ہوں تو بالاتفاق شوہر عورت سے کچھ واپس نہیں لے سکے گا، کیونکہ شوہر کو اپنا درہم واپس مل گیا ۔        
ترجمہ :  ١  اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ شوہر عورت سے آدھا مہر واپس لے ، یہی قول امام زفر  کا ہے ، اس لئے کہ عورت کے بری 

Flag Counter