(١٦٠٥) فان تزوجہا علی الف فقبضتہا ووہبتہا لہ ثم طلقہا قبل الدخول بہا رجع علیہا بخمسمائة ) ١ لانہ لم یصل الیہ بالہبة عین مایستوجبہ لان الدراہم والدنانیر لاتتعینان فی العقود
اجرت طے پاتی ہے وہاں اس کی قیمت ہوتی ہے لیکن نکاح کے عقد میں اس کا دینا واجب نہیں اس لئے اس کا متقوم ہو نا بھی ظاہر نہیں ہو گا ، اس لئے خدمت کا حکم اپنے اصل پر باقی رہے گا یعنی بغیر مجبوری کے وہ متقوم نہیں ہے ، اور قاعدہ گزر چکا ہے کہ ایسی چیز مہر باندھی جسکی کوئی قیمت نہیں ہے تو وہاں مہر مثل لازم ہو تا ہے اس لئے یہاں بھی مہر مثل لازم ہو گا۔
لغت : ۔ تقومہ : تقوم قیمت سے مشتق ہے ، کسی چیز کا قیمت والا ہو نا ۔
ترجمہ : ( ١٦٠٥) اگر ہزار پر نکاح کیا اور عورت نے اس کو قبضہ کر لیا اور وہ ہزار شوہر کو دے دیا ، پھر شوہر نے عورت کو دخول سے پہلے طلاق دی تو شوہر عورت سے پانچ سو واپس لے گا ۔
تشریح : ]١[یہاں سے لیکر مسئلہ نمبر ١٦١٠ تک ایک قاعدے پر ہے کہ ہبہ کا مطلب یہ ہے کہ میں آدھا مہر واپس نہیں کر رہی ہوں بلکہ میں اپنی چیز الگ سے شوہر کو دے رہی ہوں ، اور دخول سے پہلے طلاق واقع ہو نے کی وجہ سے شوہر کو آدھا مہر واپس چا ہئے اس لئے عورت سے الگ دوبارہ آدھا مہر مانگ سکتا ہے]٢[ یہاں ایک اصول یہ ہے کہ شوہر سے جو مہر لیا ہے اگر وہی چیز عورت نے واپس نہیں کی تو شوہر اپنے دئے ہوئے مہر کو واپس لے سکتا ہے ، اور اگر وہی چیز واپس دے دی تو شوہر اب اس کو واپس نہیں لے سکتا ۔ ]٣[دوسرا اصول یہ ہے کہ درہم اور دینار متعین کر نے سے متعین نہیں ہو تا ، اس لئے جو دینار یا درہم لے کر عورت نے واپس دیا ہے وہ شوہر والا درہم دینار نہیں ہے ، وہ عورت کا اپنا درہم اور دینار ہے ۔]٤[اور تیسرا اصول یہ ہے کہ دخول سے پہلے طلاق دینے سے عورت آدھے ہی مہر کا حقدار ہوتی ہے ، پورے کا نہیں ۔
صورت مسئلہ یہ ہے کہ ہزار درہم پر شادی ہوئی تھی ، اور عورت نے شوہر سے ہزار درہم لیا ، پھر شوہر کو ہزار درہم واپس ہبہ بھی کر دیا اب دخول سے پہلے طلاق دے دی ، تو عورت کو آدھا مہر پانچ سو ہی ملنا چا ہئے اور عورت نے ایک ہزار شوہر سے لیا ہے ، اس لئے شوہر کو حق ہے کہ باقی پانچ سو عورت سے واپس لے لے ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت نے جو ایک ہزار شوہر کو دیا ہے وہ شوہر والا درہم یا دینار نہیں ہے بلکہ عورت کا اپنا درہم ہے اور گو یا کہ الگ سے عورت نے شوہر کو درہم دیا ہے ، شوہر ہی کا مہر اس کو واپس نہیں لوٹایا ، کیونکہ درہم اور دینا رمتعین کر نے سے متعین نہیں ہو تا،اس لئے شوہر کو دوبارہ پانچ سو لینے کا حق ہے ، ہاں اگر عورت دیتے وقت یہ کہہ دیتی کہ یہ مہر ہی کا درہم ہے تو پھر شوہر کو دوبارہ لینے کا حق نہیں ہو تا ، اور یہاں ایسا کہا نہیں ہے بلکہ الگ سے ہبہ کیا ہے اس لئے لینے کا حق ہو گا ۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ ہبہ کے ذریعہ عین وہی چیز اس کو نہیں پہونچی جس کا وہ حقدار تھا، اس لئے کہ درہم اور دینار عقد اور فسخ میں