Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

185 - 465
 ٨  ثم علی قول محمد تجب قیمة الخدمة لان المسمی مال الا انہ عجز عن التسلیم لمکان المناقضة فصار کالتزوج علی عبد الغیر  ٩ وعلی قول ابی حنیفة وابی یوسف یجب مہر المثل لان الخدمة لیست بمال اذ لا یستحق فیہ بحال فصار کتسمےة الخمر والخنزیر ١٠  وہذا لان تقومہا بالعقد للضرورة فاذا لم یجب تسلیمہ فی العقد لایظہر تقومہا فیبقی الحکم علی الاصل وہو مہر المثل 

تشریح :  بیوی کی بکری چرانا مہر میں رکھے تو اس سے گھر کا انتظام صحیح رہتا ہے اس میں بیوی کی خدمت نہیں ہے اس لئے یہ قلب موضوع نہیں ہے اس لئے یہ مہر رکھا جا سکتا ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ بیوی کی بکری چرانا مہر رکھے یہ بھی درست نہیں ہے ، کیونکہ یہ منافع ہے اور اوپر گزرا کہ منافع مال نہیں ہے اس لئے اس کو مہر میں رکھنا صحیح نہیں ہے ۔ 
لغت :   رعی : بکری چرانا ، اغنام : غنم کی جمع ہے ، بکری ۔ مناقضت : تناقض سے مشتق ہے ، دو باتوں کا ٹکرا جا نا ۔ 
ترجمہ :  ٨  پھر امام محمد  کے قول پر خدمت کی قیمت واجب ہو گی اس لئے کہ جو متعین ہے وہ مال ہے مگر مناقضت کی وجہ سے سونپنے سے عاجز ہے تو ایسا ہوا کہ دوسرے کے غلام پر شادی کی ۔
تشریح :  امام محمد کا قول گزرا کہ شوہر کی خدمت مہر ہو تو اس کا دینا قلب موضوع ہے اس لئے اس کی قیمت لازم ہو گی ، اور اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیںکہ دوسرے کا غلام مہر میں باندھا ہو اور وہ غلام نہ دے سکتا ہو تو اس کی قیمت مہر میںلازم ہو گی ۔ اسی طرح یہاں خدمت نہیں دے سکتا ہے اس لئے بازار میں اس خدمت کی جو قیمت ہو گی وہ لازم ہو گی ۔
ترجمہ :  ٩  اور امام ابو حنیفہ  اور امام ابو یوسف  کے قول پر مہر مثل لازم ہو گا ، اس لئے کہ خدمت مال نہیں ہے اس لئے نکاح میں کسی حال میں مستحق نہیں ہے ، تو ایسا ہوا کہ شراب اور سور مہر میںباندھا ہو ۔
تشریح :  شیخین  کے یہاں تعلیم قرآن اور شوہر کی خدمت دو نوں صورتوں میں مہر مثل لازم ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ خدمت اور تعلیم قرآن مال نہیں ہیںیہی وجہ ہے کہ عورت کسی حال میں اس کے وصول کر نے کا استحقاق نہیں رکھتی ، تو ایسا ہو گیا کہ مہر میں شراب اور سور متعین کیا ہو تو اس میں مہر مثل لازم ہو تا ہے اسی طرح یہاں بھی مہر مثل ہی لازم ہو گا ۔ ۔تسمیة : متعین کر نا ۔ 
ترجمہ :  ١٠  اور یہ مہر مثل متعین کر نا اس لئے ہے کہ عقد کی وجہ سے خدمت کی قیمت لگا نا ضرورت کی وجہ سے ہے ، پس جب عقد میں خدمت کو سونپنا واجب نہیں تو اس کی قیمت لگا نا بھی ظاہر نہیں ہو گا ، اس لئے حکم اصل پر باقی رہے گا، اور وہ مہر مثل ہے ۔ 
تشریح :  یہ ایک اشکال کا جواب ہے ، اشکال یہ ہے کہ خدمت متقوم نہیں ہے ، یعنی اس کی قیمت نہیں ہے تو آزاد آدمی کو خدمت کے لئے اجرت پر کیوں رکھا جاتا ہے !تو اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ خدمت لینا انسانی ضرورت ہے اس لئے جہاں خدمت کی 

Flag Counter