٤ ولان خدمة الزوج الحر لایجوز استحقاقہا بعقد النکاح لما فیہ من قلب الموصوع ٥ بخلاف خدمة حر اٰخر برضاہ لانہ لا مناقضة ٦ وبخلاف خدمة العبد لانہ یخدم مولاہ معنیً حیث یخدمہا باذنہ وامرہ ٧ وبخلاف رعی الاغنام لانہ من باب القیام بامور الزوجےة فلا مناقضة علی انہ ممنوع فی رواےة
کیسے بنتی ہے ؟ اس کا جواب دے رہے ہیں کہ غلام کی خدمت کا مطلب یہ ہے کہ اس نے آقا کی اجازت سے اپنی گردن بیوی کو سپرد کر دیا، اور غلام کی گردن مال ہے تو گویا کہ مال کے بدلے میں نکاح ہوا ۔ اور آزاد کی گردن مال نہیں ہے اس لئے وہ اپنی خدمت یا گردن بیوی کو سپرد نہیں کر سکتا ۔
لغت: ابتغاء : تلاش کر نا ۔ تسلیم رقبتہ : گردن کو سپرد کر نا ، خدمت کر نا گویا کہ اپنی گردن کو بیوی کو سپرد کر نا ہے ۔
ترجمہ : ٤ اور اس لئے کہ آزاد شوہر کی خدمت عقد نکاح کی وجہ سے اس کا استحقاق جائز نہیں ، اس لئے کہ اس میں مو ضوع کو پلٹنا ہے ۔
تشریح : یہ دوسری دلیل ہے کہ بیوی اس لئے ہوتی ہے کہ وہ شوہر کی خدمت کرے ، اور شوہر کی خدمت مہر بنائیں تو شوہر عورت کی خدمت کرے گا ، یہ الٹا معاملہ ہو گیا اس لئے نکاح کی وجہ سے عورت شوہر کی خدمت کا مستحق نہیں بن سکتی ، اس لئے شوہر کی خدمت مہر نہیں بن سکتی ۔
لغت : قلب موضوع : موضوع کو پلٹنا ،الٹا کام ہو نا ۔
ترجمہ : ٥ بخلاف دوسرے آزاد کی خدمت اس کی رضامندی سے اس لئے کہ اس میں مناقضت نہیں ہے
تشریح : دوسرا آزاد آدمی اپنی رضامندی سے عورت کی خدمت کرے تو اس میں قلب مو ضوع نہیں ہے ، کیونکہ اپنی بیوی کی خدمت شوہر ہو نے کے خلاف ہے دوسرے کی خدمت تو شوہر ہو نے کے خلاف نہیں ہے ، اس لئے اس کو مہر میں رکھا جا سکتا ہے ۔
ترجمہ : ٦ بخلاف غلام کی خدمت کے اس لئے کہ حقیقت میں وہ اپنے آقا کی خدمت کر رہا ہے اس لئے کہ اس کی اجازت اور اس کے حکم سے بیوی کی خدمت کر رہا ہے ۔
تشریح : غلام کی خدمت بیوی کے مہر میں رکھے تو اس میں حرج نہیں ہے ، کیونکہ غلام آقا کی اجازت اور اس کے حکم سے بیوی کی خدمت کر رہا ہے تو حقیقت میں آقا کی ہی خدمت کر رہا ہے اس لئے یہ قلب مو ضوع نہیں ہے ۔
ترجمہ : ٧ بخلاف بکری کے چرانے کے اس لئے کہ یہ نکاح کے امور کے قائم کر نے کے باب سے ہے اس لئے کوئی مناقضت نہیں ہے ، اس کے با وجود ایک روایت میں ممنوع ہے ۔