٢ ولنا ان المشروع انما ہو الابتغاء بالمال والتعلیم لیس بمال وکذلک المنافع علی اصلنا
٣ وخدمة العبد ابتغاء بالمال لتضمنہ تسلیم رقبتہ ولا کذلک الحر
ثمانی حجج فان اتممت عشرا فمن عندک۔ (آیت ٢٧ سورة القصص ٢٨) اس آیت میں آٹھ اور دس سال تک حضرت موسی علیہ السلام کے بکری چرانے کو مہر بنایا ہے (٦) عن عبد الرحمن بن البیلمانی قال قال رسول اللہ ۖ انکحوا الایامی منکم قالوا: یا رسول اللہ فما العلائق بینھم قال ما تراضی علیہ أھلوھم ۔ (سنن للبیہقی ، باب ما یجوز ان یکون مہرا ج، سابع ص٣٩٠، نمبر١٤٣٧٥) اس حدیث میں ہے کہ عورت اور مرد کا اہل جس پر راضی ہو جائے وہ مہر بن جائے گا ، پس خدمت پر راضی ہو جائے تو وہ بھی مہر بن جائے گا ۔ (٧) ان علیا قال الصداق ما تراضی بہ الزوجان۔ (سنن للبیہقی ، باب ما یجوز ان یکون مہرا ج، سابع ص ٣٩٤، نمبر١٤٣٩٢) اس اثر میں ہے کہ میاں بیوی جس چیز پر راضی ہو جائیں وہ مہر بن جائے گی۔اس لئے خدمت پر راضی ہو جائیں تو وہ بھی مہر بن جائے گی۔
لغت : ما یصلح اخذ العوض عنہ بالشرط یصلح مہرا عندہ: اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جو چیز شرط کر کے عوض لینے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ مہر بننے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے ،مثلا شر ط لگائی کہ ایک دن خدمت کروگے تو ایک درہم ملے گا تو خدمت کی شرط عوض میں درہم ملا ، اس لئے خدمت مہر بننے کی صلاحیت رکھے گی۔ رعی : بکری چرانا۔ غنم : بکری۔
ترجمہ : ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ مشروع وہ مال کے بدلے تلاش کر نا ہے اور تعلیم مال نہیںہے اور ایسے ہی ہمارے قاعدے پر منافع مال نہیںہیں ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ آیت میں جو حکم ہے وہ مال کے بدلے بضع تلاش کر نا ہے اور قرآن کی تعلیم دینا مال نہیں ہے ، اسی طرح ہمارے قاعدے کے اعتبار سے منافع مثلا خدمت کر نا مال نہیں ہے ، بلکہ وہ نفع ہے اس لئے و ہ بھی مہر نہیں بن سکتا ۔
وجہ : (١) آیت میں ہے۔ و احل لکم ما وراء ذالکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مصافحین ۔ (آیت ٢٤، سورة النساء ٤) اس آیت میں ہے کہ مال کے بدلے نکاح کرو اور منافع مال نہیں ہے اس لئے یہ مہر نہیں بن سکتا ۔ (٢) حدیث میں ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہ ہو اور منافع درہم اور مال کے درجے میں نہیں ہیں اس لئے وہ مہر نہیں بن سکتے ۔عن جابر بن عبد اللہ ان رسول اللہ ۖ قال لا صداق دون عشرة دراھم (دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث، ص ١٧٣ نمبر ٣٥٦٠ سنن للبیہقی ، باب ما یجوز ان یکون مہرا ج سابع ،ص ٣٩٢، نمبر ١٤٣٨٤ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر دس درہم سے کم نہ ہو۔
ترجمہ : ٣ اور غلا م کی خدمت حقیقت میں مال کے ذریعہ سے ہی بضع تلاش کر نا ہے اس لئے کہ گویا کہ اس نے اپنی گردن سونپ دی، اور آزاد کی خدمت ایسی نہیں ہے ۔
تشریح : یہ ایک اشکال کا جواب ہے ، اشکال یہ ہے کہ خدمت مال نہیں ہے توپھر غلام کی خدمت اس کی بیوی کے لئے مہر