١ وقال الشافعیٰ لہا تعلیم القراٰن والخدمة فی الوجہین لان مایصلح اخذ العوض عنہ بالشرط یصلح مہراعندہ لانہ بذلک تتحقق المعاوضة وصار کما اذا تزوجہا علی خدمة حر اٰخر برضاہ وعلی رعی الزوج غنمہا
وجہ: (١) آقا کی اجازت سے بیوی کی خدمت کرنا گویا کہ آقا ہی کی خدمت کرنا ہے ۔اس لئے اس کے لئے خدمت مہر بن سکتی ہے (٢) غلام کے پاس خدمت کے علاوہ کوئی مال ہے بھی نہیں ۔جو کچھ مال ہے وہ مولی کا ہے اس لئے بھی خدمت مہر بنے گی (٣) قال انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین علی ان تأجرنی ثمانی حجج فان اتممت عشرا فمن عندک (آیت ٢٧ سورة القصص ٢٨) اس آیت میں دس سال کی خدمت پر حضرت موسی نے نکاح کیا ، اس لئے اگر غلام اپنی خدمت پر نکاح کرے تو جائز ہو گا ۔
ترجمہ : ١ امام شافعی نے فر ما یا کہ دو نوں صورتوں میں قرآن کی تعلیم اور خدمت ہو گی جو چیز شرط کر کے عوض لینے کی صلاحیت رکھتی ہو وہ انکے نزدیک مہر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے ، اس لئے کہ اس سے معاوضہ متحقق ہو جا تا ہے ، اور ایسا ہو گیا کہ دوسرے آدمی کی رضامندی سے اس کی خدمت پر نکاح کیا ہو ، یا شوہر عورت کی بکری چرانے پر نکاح کیا ہو ۔
تشریح : امام شافعی نے فر ما یا کہ شوہر آزاد ہو اور بیوی کی خدمت پر شادی کرے تب بھی جائز ہے اور شوہر غلام ہو اور بیوی کی خدمت پرنکاح کیا ہو تب بھی نکاح جائز ہے ، اس کے لئے ایک دلیل عقلی پیش کی ہے اور دو مثالیں پیش کی ہیں ۔
وجہ: (١) ان کا قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز اجرت بن سکتی ہو ، یا بیع میں قیمت بن سکتی ہو وہ مہر بھی بن سکتی ہے ، اور سال بھر کی خدمت اور سال بھر قرآن کی تعلیم اجرت بن سکتی ہے اسلئے یہ مہر بھی بن سکتی ہے(٢) اور مثال یہ ہے کہ کوئی دوسرا آزاد آدمی سال بھر تک اس عورت کی خدمت کے لئے راضی ہو گیا اور یہ خدمت مہر بنائے تو سب کے نزدیک جائز ہے اسی طرح خود شوہر کی خدمت بھی مہر بننے کے لئے جائز ہے ۔(٣) اور دوسری مثال یہ ہے کہ خود شوہر اپنی بیوی کی بکری چرانے کو مہر میں رکھے تو جائز ہے اس طرح اس کی خدمت بھی جائز ہے ، اس لئے کہ یہ سب معنوی چیز ہے اور اجرت بن سکتی ہے ۔ (٤) حدیث میں ہے کہ تعلیم قرآن کو حضورۖ نے مہر بنایا۔اس کے لئے لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔سمعت سھل بن سعد الساعدی یقول ... قال ۖ ھل معک من القرآن شیئ؟ قال معی سورة کذا وسورة کذا قال اذھب فقد انکحتکھا بما معک من القرآن۔ (بخاری شریف ،باب التزویج علی القرآن وبغیر صداق ص ٧٧٣ نمبر ٥١٤٩ مسلم شریف ، باب الصداق وجواز کونہ تعلیم قرآن وخاتم حدید الخ ص ٤٥٧ نمبر ١٤٢٥ ٣٤٨٧) اس حدیث میں تعلیم قرآن کو مہر بنایا ہے اس لئے قرآن کی تعلیم دینا مہر بن سکتا ہے (٥) اور شوہر کی خدمت کو مہر متعین کرنے کی دلیل یہ آیت ہے۔قال انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین علی ان تأجرنی