Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

181 - 465
 ٣  ولا شرکة بدون الاستحقاق  (١٦٠٣) وان تزوج حر امرأةً علی خدمتہ ایاہا سنة او علی تعلیم القراٰن فلہا مہر مثلہا )  ١   وقال محمد لہا قیمة خدمة (١٦٠٤)وان تزوج عبد امرأة باذن مولاہ علی خدمتہ سنة جاز ولہا خدمتہ )

ترجمہ : ٣  اور بغیر استحقاق کے شرکت نہیں ہو گی ۔ 
تشریح :  یہ امام شافعی  کو جواب ہے ، انہوں نے فر ما یا تھا کہ بضع میں شرکت ہوئی ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی طور پر بضع کو مہر بنانے کا مستحق ہی نہیں ہے تو اس میں شرکت کیسے ہوگی ! اس لئے یہ مہر باطل ہو جائے گا ، اور نکاح شرط فاسد سے فاسد نہیں ہو تا اس لئے نکاح باقی رہے گا ۔     
ترجمہ :(١٦٠٣)  اگر آزاد نے شادی کی کسی عورت سے اس کی ایک سال کی خدمت پر یا قرآن کی تعلیم پر تو جائز ہے اور اس کے لئے مہر مثل ہوگا ۔ 
وجہ:  (١) بیوی اس لئے ہوتی ہے کہ وہ شوہر کی خدمت کرے اور یہاں الٹا شوہر بیوی کی خدمت کرے گا۔اس لئے مہر کے لئے شوہر کی خدمت متعین کرنا صحیح نہیں ہے۔اس لئے گویا کہ مہر ہی متعین نہیں کیا ۔اور جب مہر متعین نہ کیا ہوتا تومہر مثل لازم ہوتا ہے (٢) خدمت ہمارے نزدیک مال نہیں ہے تو گویا کہ عدم مال کو مہر متعین کیا اس لئے مہر مثل لازم ہوگا۔مہر مثل کی دلیل اور شرط فاسد سے نکاح فاسد نہ ہونے کی دلیل یہ اثر ہے ۔قال جاء رجل الی ابن عباس ... فقال انی تزوجت امرأة وشرطت لھا ان لم اجی بکذا وکذا والی کذاوکذا فلیس لی نکاح،فقال ابن عباس النکاح جائز والشرط لیس شیء ۔ (سنن للبیہقی ، باب الشروط فی النکاح، ج سابع، ص ٤٠٨، نمبر١٤٤٤٢) اس اثر میںہے کہ نکاح جائز ہو جائے گا اور شرط فاسد کا اعتبار نہیں ہوگا۔
ترجمہ :  ١  اور امام محمد  نے فر ما یا کہ عورت کے لئے شوہر کی خدمت کی قیمت ہو گی ۔
تشریح :  امام محمد  فر ما تے ہیں کہ آزاد شوہر کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ بیوی کی خدمت کرے ،لیکن خدمت مہر میں ہے اس لئے سال بھر کی خدمت کی جو قیمت ہو گی وہ لازم ہو گی ۔   
ترجمہ : (١٦٠٤)  اگر غلام نے آزاد عورت سے شادی کی اپنے مولی کی اجازت سے ایک سال کی خدمت پر تو جائز ہے۔اور عورت کے لئے غلام کی خدمت ہوگی۔  
تشریح:  غلام نے آزاد عورت سے شادی کی اور اپنے آقا کی اجازت سے بیوی کے لئے ایک سال کی خدمت مہر متعین کیا تو نکاح ہو جائے گا۔اور مہر مثل لازم نہیں ہوگا بلکہ ایک سال کی خدمت ہی لازم ہوگی۔  

Flag Counter