١ وقال الشافعی بطل العقد ان لانہ جعل نصف البضع صداقا والنصف منکوحة ولا اشتراک فی ہذا الباب فبطل الایجاب ٢ ولنا انہ سمی مالا یصلح صداقا یصح العقد ویجب مہر المثل کما اذا سمی الخمر والخنزیر
نکاح ہو جاتا ہے۔اور شرط فاسد خود معدوم ہو جاتی ہے اس کی دلیل یہ اثر ہے۔قال جاء رجل الی ابن عباس ... فقال انی تزوجت امرأة وشرطت لھا ان لم اجی بکذا وکذا والی کذاوکذا فلیس لی نکاح،فقال ابن عباس النکاح جائز والشرط لیس شیء ۔ (سنن للبیہقی ، باب الشروط فی النکاح، ج سابع، ص ٤٠٨، نمبر١٤٤٤٢) اس اثر میںہے کہ نکاح جائز ہو جائے گا اور شرط فاسد کا اعتبار نہیں ہوگا (٣) اثر میں ہے ۔ عن عطاء فی المشاغرین یقران علی نکاحھما ویوخذ لکل واحد منھما صداق۔ (مصنف ابن ابی شیبة ٢٢٢ ماقالوا فی النکاح الشغار ،ج رابع، ص ٣٤، نمبر١٧٤٩٩) اس اثر میں ہے کہ شغار میں سے دونوں کا نکاح بحال رہے گا اور دونوں کے لئے الگ سے مہر متعین ہوگا جو مہر مثل ہوگا۔
ترجمہ : ١ امام شافعی نے فر ما یا کہ دو نوں عقد باطل ہیں اس لئے کہ آدھا بضع مہر قرار دیا ، اور آدھا نکاح کے طور پر ہے ، اور اس باب میں اشتراک نہیں ہے اس لئے ایجاب باطل ہے ۔
تشریح : امام شافعی نے فر ما یا کہ دو نوں عورتوں کا عقد باطل ہیں ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں جب بضع کو مہر قرار دیا تو گو یا کہ آدھا بضع مہر ہوا اور آدھا بضع نکاح میں ہوا اور بضع انسانی جسم ہے وہ مہر میں نہیں ہو سکتا اس لئے شروع سے ایجاب ہی باطل ہے اس لئے نکاح نہیں ہو گا ۔ (٢) ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن ابن عمر ان رسول اللہ ۖ نھی عن الشغار والشغار ان یزوج الرجل ابنتہ علی ان یزوجہ الآخر ابنتہ لیس بینھما صداق ۔ (بخاری شریف ، باب الشغار ،ص ٩١٤، نمبر ٥١١٢ ترمذی شریف، باب ماجاء فی النھی عن نکاح الشغار، ص ٢١٣ ،نمبر ١١٢٤ مسلم شریف ، باب تحریم نکاح الشغار ،ص ٤٥٤ ،نمبر ١٤١٥ ٣٤٦٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضورۖ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے اس طرح سے نکاح ہی نہیں ہوگا۔
ترجمہ : ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ ایسی چیز کو متعین کیا جو مہر نہیں بن سکتا اس لئے عقد صحیح ہے اور مہر مثل واجب ہو گا جیسا کہ اگر شراب اور سور متعین کر تا ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ اگر ایسی چیز مہر میں متعین کیا جو مہر نہیں بن سکتی پھر بھی بغیر مہر کے نکاح ہو جائے گا ، اور مہر مثل لازم ہو گا ، جیسے شراب یا سور کے مہر پرنکاح کیا تو نکاح ہو جائے گا اور مہر مثل لازم ہو گا اسی طرح یہاں بضع پر نکاح کیا تو نکاح ہو جائے گا اور مہر مثل لازم ہو گا ۔