Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

179 - 465
٤  وھو غیر جان فی الایحاش فلا تلحقہ الغرامة بہ فکان من باب الفضل  (١٦٠٢) واذا زوج الرجل بنتہ علی ان یزوجہ المتزوج بنتہ او اختہ لیکون احد العقدین عوضا عن الاخر فالعقد ان جائزان ولکل واحدة منہما مہر مثلہا )

ترجمہ : ٤  طلاق دینے والا متوحش کر نے میں جنایت کر نے والا نہیں ہے اس لئے طلاق کی وجہ سے اس کو تاوان بھی لازم نہیں ہو گا اس لئے متعہ دینا فضیلت کی چیز ہے ۔ 
تشریخ :  یہ امام شافعی  کو جواب ہے ، انہوں نے فر ما یا تھا کہ طلاق دے کر عورت کو متوحش کیا اس لئے اس کے جرم میں متعہ دینا واجب ہو گا ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ طلاق دینے سے عورت متوحش ضرور ہوئی ہے لیکن یہ کوئی جرم کی چیز نہیں ہے اس لئے کہ شریعت کی اجازت سے دی ہے ، اور میاں بیوی کا ساتھ رہنا مشکل ہو گیا ہو تو طلاق دینا واجب ہو جا تا ہے اس لئے یہ کوئی جرم نہیں ہے کہ اس کا تاوان دینا پڑے ، اس لئے متعہ دینا تاوان نہیں ہے بلکہ احسان کے طور پر دیتے ہیں ، اور فضیلت کے طور پر دیتے ہیں ۔ 
لغت :  جان :  اسم فاعل کا صیغہ ہے ، جنایت کر نے والا ، جرم کر نے والا ۔ ایحاش : وحشی بنا نا ، متوحش کر نا، متنفر کر نا ۔غرامة : تاوان۔   
ترجمہ : (١٦٠٢)  اگر شادی کرائی آدمی نے اپنی بیٹی کی اس شرط پر کہ وہ شادی کرادے اپنی بہن کی یا اپنی بیٹی کی تاکہ دونوں میں سے ایک بدلہ ہو جائے دوسرے کا تو دونوں عقد جائز ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے مہر مثل ہوگا۔  
تشریح:  اس نکاح کو نکاح شغار کہتے ہیں ۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ اپنی لڑکی یا بہن کی کسی سے شادی کرائے اور اس کے لئے مہر متعین یہ کرے کہ سامنے والا اپنی بہن یا بیٹی کی شادی اس سے کرادے۔امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ دونوں عقد جائز ہیں اور دونوں عورتوں کے لئے مہر مثل ہوگا ۔
 وجہ:  (١)یہ ایسا ہوا کہ نکاح کیا لیکن مہر متعین نہیں کیا اور مہر متعین نہ کرے تو مہر مثل لازم ہوتا ہے۔اس لئے اس صورت میں مہر مثل لازم ہوگا۔ مہر متعین نہ کرے تو مہر مثل لازم ہوگا اس کی دلیل  یہ حدیث گزر چکی ہے ۔عن ابن مسعود انہ سئل عن رجل تزوج امرأة ولم یفرض لھا صداقا ولم یدخل بھا حتی مات فقال ابن مسعود لھا مثل صداق نسائھا لا وکس ولا شطط و علیھا العدةولھا المیراث فقام معقل ابن سنان الاشجعی فقال قضی رسول اللہ فی بروع بنت واشق امرأة منا مثل ما قضیت ففرح بھا ابن مسعود  (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یتزوج المرأة فیموت عنھا قبل ان یفرض لھا ص ٢١٢ نمبر ١١٤٥ ابو داؤد شریف ، باب فیمن تزوج ولم یسم لھا صداقا حتی مات ص ٢٩٥ نمبر ٢١١٤) اس حدیث میں ہے کہ مہر متعین نہ کیا ہو اور شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت کے لئے مہر مثل ہوگا۔ (٢) اور شرط فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ 

Flag Counter