Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

178 - 465
٢   ولنا ان المتعة خلف عن مہر المثل فی المفوضة لانہ سقط مہر المثل ووجبت المتعة والعقد یوجب العوض فکان خلفا  ٣ والخلف لایجامع الاصل ولاشیئا منہ فلاتجب مع وجوب شیٔ من المہر وہو

لئے واجب ہوا ہے اس لئے کہ اس کو جدا کر کے متوحش کیا ، لیکن اس صورت میں اس کو متعہ کے طور پر آدھا مہر مل گیا ، اس لئے کہ طلاق اس صورت میں فسخ نکاح ہے ، اور متعہ مکرر نہیں ہو تا ، اس لئے اس کو دوبارہ متعہ نہیں ملے گا ۔
تشریح :  امام شافعی  کے یہاں ہر مطلقہ کے لئے متعہ واجب ہے ، لیکن جس صورت میں مہر متعین کیا ہو اور خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہو اس میں متعہ واجب نہیں ۔مستحب ہے ، کیونکہ بغیر بضعہ دئے ہوئے اس کو آدھا مہر مل گیا ہے ۔
وجہ :  (١) اس کی وجہ یہ فر ماتے ہیں کہ عورت کو طلاق دے کر متوحش کیا ہے اس لئے اس کادل رکھنے کے لئے متعہ واجب کیا ہے ، لیکن اس عورت کو متعہ کے بدلے میں آدھا مہر مل گیا اس لئے دو بارہ متعہ نہیں ملے گا کیونکہ متعہ مکرر نہیں ہو تا ۔
ترجمہ : ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ خود سے پیش کر نے کی صورت میں متعہ مہر مثل کا خلیفہ ہے، اس لئے کہ مہر مثل ساقط ہو گیا اور اس کے بدلے میں متعہ واجب ہو گیا ، اور عقد عوض کو واجب کر تا ہے ، اس لئے یہ متعہ مہر کا خلیفہ بن جائے گا ۔ 
تشریح :  یہاں متن کی عبارت اور اسکی دلیل میں تسامح ہے ۔ یہ عبارت  طلاق کی چوتھی صورت کی دلیل ہے ۔]٤[  چوتھی صورت یہ تھی کہ ۔مہر متعین نہیں ہے اور وطی سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہے ۔ اس کو کچھ نہیں ملے گا ، اس لئے اس کے لئے متعہ واجب ہے ۔اس صورت میں چونکہ مہر متعین نہیں ہے تو گویا کہ عورت نے بغیر مہر کے اپنے آپ کو سپرد کر دیا اس لئے اس کو مفوضہ ، کہتے ہیں۔اس صورت میں اگر دخول ہوا ہو تو مہر مثل واجب ہو تا ہے ، اور دخول نہ ہوا ہو تو مہر مثل کا چونکہ آدھا نہیں ہو تا اس لئے آدھا مہر لازم نہیں ہو گا ، اس لئے اس کے بدلے میں متعہ دینا واجب ہو گا ۔ تاکہ عورت کو کچھ نہ کچھ مال مل جائے ۔ اور یہ متعہ مہر کا خلیفہ بن جائے گا۔
ترجمہ : ٣  اور خلیفہ اصل کے ساتھ جمع نہیں ہو تا ، اور نہ اس کے کسی جز کے ساتھ جمع ہو تا ہے، اس لئے مہر کے کچھ بھی واجب  ہو نے سے متع واجب نہیں ہو گا ۔ 
تشریح :  یہ ایک قاعدہ بیان فر ما رہے ہیں کہ ، مہر اصل ہے اور متعہ اس کا خلیفہ ہے ، اور قاعدہ یہ ہے کہ اصل کے ساتھ ، یا اصل کے کسی حصے کے ساتھ خلیفہ جمع نہیں ہو سکتا ، اس لئے جن تین صورتوں میں مہر متعین ، یا مہر مثل ، یا آدھا مہر لازم ہو تا ہے ان صورتوں میں متعہ دینا واجب نہیں ہو گا ، بلکہ دو صورتوں میں صرف مستحب ہے اور ایک صورت میں تو مستحب بھی نہیں ہے ۔ یعنی جس صورت میں مہر متعین ہے اور وطی سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہو تو آدھا مہر لازم ہو تا ہے تو اس صورت میں متعہ دینا مستحب بھی نہیں ہے ۔     

Flag Counter