١ وقال الشافعی تجب لکل مطلقة الا لہذہ لانہا وجبت صلة من الزوج لانہ اوحشہا بالفراق الا ان فی ہذہ الصورة نصف المہر طریقة المتعة لان الطلاق فسخ فی ہذہ الحالة والمتعة لا تتکرر
فحسبھا نصف ما فرض لھا (سنن للبیہقی،باب المتعة ،ج سادس ،ص ٤١٩،نمبر١٤٤٩١) اس سے معلوم ہوا کہ جس کا مہر متعین ہو اور صحبت سے پہلے طلاق دیدے تو اس کو آدھا مہر ملے گا۔اس لئے اس کے لئے متعہ ضروری نہیں ہے۔
قدوری کی عبارت میں ہے و لم یسم لھا مہرا ( قدوری کتاب النکاح ،ص١٣٧) اور عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت کے لئے متعہ مستحب ہے لیکن جس کے لئے مہر متعین نہیں ہے اور دخول سے پہلے طلاق واقع ہو ئی ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا اس لئے اس کے لئے متعہ واجب ہے ، اور اسی عبارت کے انداز سے آگے صاحب ہدایہ نے تفصیل کی ہے ۔
( متعہ کے لئے چار صورتیں)
]١[ مہر متعین ہے اور وطی کے بعد طلاق واقع ہوئی ہے ۔ اس کو پورا مہر ملے گا ، اس لئے اس کے لئے متعہ مستحب ہے
]٢[ مہر متعین ہے اور وطی سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہے ۔ اس کو آدھا مہر ملے گا ، اس لئے اس کے لئے متعہ مستحب بھی نہیں ہے
]٣[ مہر متعین نہیں ہے اور وطی کے بعد طلاق واقع ہوئی ہے ۔ اس کو مہر مثل ملے گا ، اس لئے اس کے لئے متعہ مستحب ہے
]٤[ مہر متعین نہیں ہے اور وطی سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہے ۔ اس کو کچھ نہیں ملے گا ، اس لئے اس کے لئے متعہ واجب ہے ۔۔اس چو تھے درجے کو متعہ دینا اس لئے واجب ہے کہ اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا اب شوہر جیسی نعمت ہاتھ سے گئی اور کچھ بھی نہ ملے تو افسوس زیادہ ہو گا اس لئے کم سے کم اس کو متعہ دلوا یا جائے ،
وجہ : (١) ایسی عورت کو متعہ دینے کے لئے آیت میں امر کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسو ھن او تفرضو لھن فریضة ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ متاعا بالمعروف (آیت ٢٣٦ سورة البقرة٢) اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ ابن عباس کی عبارت یہ ہے۔ عن ابن عباس فی ھذہ الآیة قال ھو الرجل یتزوج المرأة و لم یسم لھا صداقا ثم طلقھا من قبل ان ینکحھا فأمر اللہ تعالی ان یمتعھا علی قدر یسرہ و عسرہ فان کان موسرا متعھا بخادم أو نحو ذالک و ان کان معسرا فبثلاثة اثواب أو نحو ذالک ۔ ( سنن للبیہقی ،باب التفویض ،ج سابع، ص ٢٤٤، نمبر ١٤٤٠٥) اس آیت میں فرمایا جس کے لئے مہر متعین نہ کیا ہو اور اس سے خلوت صحیحہ بھی نہ کیا ہو اس کو ضرور متعہ دواپنی حیثیت کے مطابق۔(٢) اس آیت میں بھی اس کا اشارہ ہے۔ و للمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین۔ ( آیت ٢٤١، سورة البقرة ٢) اس آیت میں ہے کہ متقین پر متعہ دینا واجب ہے ۔
ترجمہ : ١ امام شافعی نے فر ما یا کہ ہر مطلقہ کے لئے متعہ واجب ہے ، سوائے اس مطلقہ کے لئے اس لئے کہ نکاح کے صلے کے