٣ وذکر القدوری فی شرحہ ان المانع ان کان شرعیاً تجب العدة لثبوت التمکن حقیقة وان کان حقیقیا کالمرض والصغر لاتجب لعدم التمکن حقیقة (١٦٠١) قال وتستحب المتعة لکل مطلقةٍ الا لمطلقة واحدة وہی التی طلقہا الزوج قبل الدخول بہا وقد سمی لہا مہراً )
کے واجب کر نے میںاتنی احتیاط نہیں کی جاتی ہے ، جیسے خلوت فاسدہ میں مہر لازم نہیں کیا جا تا ۔
ترجمہ : ٣ قدوری نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ اگروطی سے مانع شرعی ہو تو عدت واجب ہو گی ، کیونکہ حقیقت میں وطی کی قدرت ہے ، اور اگر وطی سے مانع حقیقی ہو جیسے بیمار ہو نا اور نا بالغ ہو نا تو عدت واجب نہیں ہے حقیقت میں قدرت نہ ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : صاحب قدوری نے مختصر الکرخی کی شرح لکھی ہے جس میں ہے کہ اگر حقیقت میں وطی کر سکتا ہو لیکن شرعی طور پر وطی نہ کر سکتا ہو جیسے حیض آنے کا موقع ہوتو خلوت سے عدت واجب ہو گی ، کیونکہ حقیقت میں وطی کر نے کی قدرت ہے ، صرف شرعی طور پر مانع وطی ہے ، اور اگر ایسا مرض ہو کہ اس کی وجہ سے وطی ہی نہ کر سکتا ہو مثلا ذکر کٹا ہوا ہو ، یا عورت نا بالغ ہو ، یا مرد نا بالغ ہو جس کی وجہ سے وطی نہ کر سکتا ہو تو چونکہ حقیقت میں وطی نہیں کر سکتا ہے اس لئے رحم مشغول ہو نے کا امکان نہیں ہے اس لئے اس کی خلوت سے عدت لازم نہیں ہو گی ۔
ترجمہ : (١٦٠١) مستحب ہے متعہ ہر مطلقہ کے لئے مگر ایک مطلقہ کے لئے وہ یہ ہے کہ طلاق دی ہو صحبت سے پہلے اور اس کے لئے مہر متعین کیا ہو۔ ]اس کے لئے متعہ دینا مستحب بھی نہیں ہے [
تشریح: یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ نکاح کے بدلے میں کچھ نہ کچھ مال دینا ہو گا چا ہے مہر دیں یا متعہ دیں ۔کیونکہ آیت میںہے ۔و احل لکم ما وراء ذالکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مصافحین ۔(آیت٢٤ ، سورة النساء ٤ ) پس جس صورت میں مہر کچھ بھی نہیں ملا اس صورت میں متعہ دینا واجب ہو گا ، تاکہ عورت کو کچھ نہ کچھ مال مل جائے ، اور جس صورت میں مہر متعین یا مہر مثل ملا ہے تو چونکہ مال مل چکا ہے اس لئے متعہ دینا واجب نہیں ہو گا ،مستحب ہو گا ، اور جس صورت میں عورت نے بضع بھی نہیں دیا اور آدھا مہر لے گئی تو اس صورت میں متعہ مستحب بھی نہیں ہے ۔
اس قاعدے کے بعد اب صورت مسئلہ یہ ہے ۔ جس عورت کا مہر متعین ہے اور وطی سے پہلے طلاق ہوئی ہے اس کو آدھا مہر ملے گا ، جب شوہر کو عورت کی جانب سے کچھ نہیں ملا اور اس کو آدھا مہر دینا پڑ گیا تو اب مزید متعہ دلوانا ٹھیک نہیں ہے اس لئے اس کے لئے متعہ مستحب نہیں ہے ۔
وجہ : (١) عن ابن عمر انہ کان یقول لکل مطلقة متعة الا التی تطلق وقد فرض لھا الصداق ولم تمس