٣ ولابی حنیفة ان المستحق علیہا التسلیم فی حق السحق وقد اتت بہ (١٦٠٠) قال و علیہا العدة فی جمیع ہذہ المسائل ) ١ احتیاطا استحسانا لتوہم الشغل والعدة حق الشرع والولد فلایصدق فی ابطال حق الغیر ٢ بخلاف المہر لانہ مال لایحتاط فی ایجابہ
یعنی جس کا آلہ صحیح سالم ہے لیکن اس میں جماع کرنے کی طاقت نہیںہے تو اس کے خلوت کرنے سے خلوت صحیحہ ہو گی ، کیونکہ اس کے پاس آلہ تناسل مو جود ہے ، اور حکم کا دار مدار آلہ پر ہو تا ہے اس لئے وہاں خلوت صحیحہ ہو جائے گی۔
ترجمہ : ٣ امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ عورت پر رگڑنے کے لئے سپرد کر دینا لازم ہے اور وہ کر دیا ہے ]اس لئے اس کو پورا مہر ملے گا [
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے۔ امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ عورت پر یہ لازم ہے کہ شوہر کو شرمگاہ پر رگڑنے کے دے دے اور یہ اس نے کر دیا ہے، اور شوہر کا عضو اگر چہ کٹا ہوا ہے لیکن شرمگاہ پر رگڑ سکتا ہے اور لذت حاصل کر سکتا ہے ، بس اسی سے عورت پورا مہر لے سکتی ہے ۔
لغت: السحق : شرمگاہ پر رگڑنا ۔ اتت بہ : ایسا لا یا ، ایسا کر دیا ہے ۔
ترجمہ : ( ١٦٠٠) اور ان تمام مسائل میں عورت پر عدت ہے ۔
ترجمہ : ١ استحسانا احتیاط کے طور پر رحم کے مشغول ہو نے کے وہم کی وجہ سے ۔
تشریح : اوپر کے تمام خلوتوں میں عدت لازم ہو گی ، چا ہے خلوت صحیحہ ہو چا ہے خلوت فاسدہ ہو ۔
وجہ : عدت لازم ہو نے کی تین وجہ بیان فر ما رہے ہیں(١)اگر چہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جب خلوت صحیحہ نہیں ہو ئی تو عدت لازم نہیںہو نی چا ہئے لیکن استحسان کا تقاضا یہ ہے کہ خلوت فاسدہ میں بھی عدت لازم ہو ، اور اسی میں احتیاط بھی ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہو کہ رگڑنے کی وجہ سے منی اندر داخل ہو گئی ہو اور پیٹ میں حمل ٹھہر گیا ہو ، یا خلوت فاسدہ میں حمل ٹھہر گیا ہو اس لئے اس حمل کے وہم کی بنا پر عدت گزارنا لازم ہے۔(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ عدت گزارنا شریعت کا حق ہے ، اس لئے میاں بیوی اس بات پر اتفاق بھی کر لے کہ وطی نہیں ہوئی ہے پھر بھی انکے کہنے سے شریعت کا حق باطل نہیں ہو گا ، کیونکہ ایک کے کہنے سے دوسرے کا حق باطل نہیں ہو تا۔ (٣) تیسری وجہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہو کہ پیٹ میں بچہ ہو اور عدت بچے کے لئے ہی گزاری جاتی ہے ، اس لئے میاں بیوی کے کہنے سے بچے کا حق باطل نہیں ہو گا ۔ اس لئے ان ساری صورتوں میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ عدت گزاری جائے۔
ترجمہ : ٢ بخلاف مہر کے اس لئے کہ وہ مال اس کے واجب کر نے میں احتیاط نہیں کیا جا تا ہے۔
تشریح : عدت کا معاملہ اہم ہے اس لئے خلوت صحیحہ اور خلوت فاسدہ دونوں واجب کی جائے گی ، اور مہر مال ہے اس لئے اس