Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

174 - 465
(١٥٩٩) واذا خلا المجبوب بامرأتہ ثم طلقہا فلہا کمال المہر )  ١ عند ابی حنیفة   ٢   وقالا علیہ نصف المہر لانہ اعجز من المریض بخلاف العنین لان الحکم ادیر علی سلامة الاٰلة 

حکم نفلی روزے کا ہے وہی حکم نفلی نماز کا ہے ، یعنی نفلی نماز کی حالت میں خلوت ہو گئی تو یہ خلوت صحیحہ ہو گی نفلی روزے کی طرح اس کو توڑ کر وطی کر سکتا ہے ۔   
ترجمہ :  (١٥٩٩)  اگر خلوت کی ذکر کٹے ہوئے آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ پھر اس کو طلاق دی تو اس کے لئے پورا مہر ہوگا ۔   ترجمہ :   ١  امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔  
تشریح:   ذکر کٹا ہوا ہے ایسا آدمی بیوی کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا اس کے با وجود اگر اپنی بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ کی تو اس پر پورا مہر لازم ہوگا۔
 وجہ :  عورت نے اپنا مال سپرد کر دیا۔یہ اور بات ہے کہ مرد کی مجبوری کی وجہ سے وہ وصول نہیں کر پا رہا ہے۔اس لئے اس پر پورا مہر لازم ہوگا عن ابراہیم قال قال عمر : ما ذنبھن ان جاء العجز من قبلکم ، لھا الصداق کاملا و العدة کاملة۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب وجوب الصداق، ج سادس، ص ٢٢٨، نمبر ١٠٩١٥) اس اثر میں ہے کہ عورت کی کیا غلطی ہے اس کو پورا مہر ملے گا ۔  (٢)۔عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان قال قال رسول اللہ ۖ من کشف خمار امرأة ونظر الیھا فقد وجب الصداق دخل بھا او لم یدخل بھا (دار قطنی ، کتاب النکاح ج ثالث ص ٢١٣ نمبر ٣٧٨٠ سنن للبیہقی ، باب من قال من اغلق بابا او ارخی سترا فقد وجب الصداق ج ،سابع ص ٤١٨،نمبر١٤٤٨٧)(٣) اثر میں بھی ہے ۔ قال عمر بن الخطاب اذا اغلق بابا وارخی سترا فقد وجب لھا الصداق وعلیھا العدة ولھا المیراث (دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث ،ص ٢١٢ ،نمبر ٣٧٧٩ سنن للبیہقی ، باب من قال من اغلاق بابا او ارخی سترا فقد وجب الصداق ،ج سا بع، ص ٤١٦،نمبر١٤٤٨١ مصنف عبد الرزاق، باب وجوب الصداق، ج سادس ، ص ٢٢٨، نمبر ١٠٩١١)  اس اثر اور حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت سے خلوت صحیحہ ہو گئی تو پورا مہر لازم ہو گا ، واقعی وطی کی ہو یا نہ کی ہو ، یہ مرد کی مجبوری ہے ، عورت کی نہیں ۔ 
ترجمہ :  ٢  اور صاحبین  نے فر ما یا کہ آدھا مہر ہے اس  لئے کہ مرض کی وجہ سے وطی سے عاجز ہو گیا ، بخلاف عنین کے اس لئے کہ حکم آلہ کے سلامت پر گھومتا ہے ۔ 
تشریح :   صاحبین  فر ما تے ہیں کہ ذکر کٹے ہوئے آدمی نے خلوت کی تو عورت کو آدھا مہر ملے گا ۔
وجہ :  اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ بیمار خلوت کرے تو اس پر آدھا مہر لازم ہو تا ہے ، اور یہ تو بیمار سے بھی زیادہ عاجز ہے کیونکہ اس کے پاس تو آلہ بھی نہیں ہے اس لئے وطی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے اس لئے بدرجہ اولی خلوت نہیں ہو ئی ۔اس کے بر خلاف عنین ، 

Flag Counter