Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

173 - 465
(١٥٩٨) وان کان احد ہماصائماً تطوعاً فلہا المہر کلہ )   ١  لانہ یباح لہ الافطار من غیر عذر فی رواےة المنتقی وہذا القول فی المہر ہو الصحیح  ٢  وصوم القضاء والمنذور کالتطوع فی رواےة لانہ لا کفارة فیہ  ٣ والصلوة بمنزلة الصوم فرضہا کفرضہ ونفلہا کنفلہ 

ہے ، اور شرعی طور بھی اس وقت جماع سے منع کیا ہے  اس لئے  حیض کی حالت میں خلوت صحیحہ نہیں ہو گی ۔ اس آیت میں دو نوں کی تصریح ہے۔  و یسئلونک عن المحیض قل ھو أذی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربو ھن حتی یطھرن۔( آیت ٢٢٢، سورة البقرة ٢) کہ حیض کی حالت میں عورت کے قریب مت جاؤ۔       
ترجمہ : (١٥٩٨)  اور اگر دو نوں میں سے ایک نفلی روزہ دار ہو تو اس کو پورا مہر ملے گا ۔ 
ترجمہ :  ١  اس لئے کہ منتقی کتاب کی روایت میں ہے کہ بغیر عذر کے اس کے لئے روزہ توڑنا مباح ہے ، اور مہر کے بارے میں یہی قول صحیح ہے ۔ 
تشریح :  منتقی کی روایت میں ہے کہ نفلی روزہ کو بغیرکسی عذر کے بھی توڑ سکتا ہے اس لئے میاں بیوی میں سے کوئی نفلی روزے کی حالت میں ہوتب بھی خلوت صحیحہ ہو جائے گی ، کیونکہ توڑ کر وطی کر سکتا ہے۔    
وجہ : ۔ عن ام ھانی .....فقالت یا رسول اللہ ! لقد افطرت و کنت صائمة فقال لھا أکنت تقضین شیئا ؟ قالت لا قال فلا یضرک ِ ان کان تطوعا ۔ ( ابو داود شریف ، باب فی الرخصة فیہ ]ای فی القضائ[ ،ص ٣٥٦، نمبر ٢٤٥٦) اس حدیث میں ہے کہ نفلی روزہ ہو تو اس کو توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اس لئے مہر واجب کر نے کے بارے میں اسی قول کو لینا بہتر ہے تاکہ عورت کا فائدہ ہو جائے ۔  
لغت:  المنتقی : حاکم شہید کی کتاب ہے ۔
ترجمہ :  ٢  قضاء کا روزہ ، اور نذر کا روزہ ایک روایت میں نفل روزے کی طرح ہے ، اس لئے کہ اس میں کفارہ نہیں ہے ۔
تشریح :  رمضان کا روزہ قضاء کر رہا تھا ، یا نذر کا روزہ رکھ رہا تھا تو اس کو توڑنے میں صرف قضا ہے کفارہ نہیں ہے اس لئے اس روزے کو توڑ کر وطی کر سکتا ہے ، زیادہ سے زیادہ اس کے بدلے میں قضا لازم ہو گی اس لئے اس حالت میں خلوت ہوئی تو وہ خلوت صحیحہ ہے۔
ترجمہ : ٣  اور نماز روزے کی طرح اس کا فرض روزے کے فرض کی طرح ہے ، اور اس کا نفل روزے کے نفل کی طرح ہے ۔
تشریح :  جو حکم فرض روزے کا ہے خلوت صحیحہ میں وہی حکم فرض نماز کا ہے ، یعنی اگر فرض نماز پڑھ رہاہو اور اسی حالت میں خلوت ہو گئی تو یہ خلوت صحیحہ نہیں ہو گی ، کیونکہ فرض نماز توڑ کر وطی کر نا صحیح نہیں ہے ، جس طرح فرض روزہ توڑ کر  وطی کر نا صحیح نہیں ہے۔  اور جو 

Flag Counter