٢ ولنا انہا سلمت المبدل حیث رفعت الموانع وذلک وسعہا فیتأکد حقہا فی البدل اعتبارا بالبیع (١٥٩٧) وان کان احدہما مریضاً او صائما فی رمضان او محرما بحج فرض اونفل او بعمرة او کانت حائضا فلیست الخلوة صحیحةً ) ١ حتی لو طلقہا کان لہا نصف المہر لان ہذہ الاشیاء موانع
وجہ: (١) ان کی دلیل ابن عباس کا اثر ہے۔ عن ابن عباس قال لا یجب الصداق حتی یجامعھا، لھا نصفہ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب وجوب الصداق ،ج سادس، ص ٢٣٠، نمبر ١٠٩٢٤)اس اثر میں ہے کہ جماع نہ کیا ہو تو پورامہر لازم نہیں ہو گا ۔
لغت: معقود علیہ : جس پر عقد ہوا ہو ، اس سے مراد بضع کا منافع حاصل کر نا ہے ۔مستوفی : وفی سے مشتق ہے ، وصول کر نا ۔
ترجمہ : ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ بدل کو سپرد کر دیا اس طرح کہ موانع کو اٹھا دیا اور یہ اس کی طاقت میں تھا اس لئے عورت کا حق بدل میں مؤکد ہو گیا بیع پر قیاس کرتے ہوئے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ۔ہماری دلیل یہ ہے کہ عورت کی طاقت میں یہ ہے کہ وطی کے موانع ہٹا دے اور بضع شوہر کے سپرد کر دے اور وہ اس نے کردیا اس لئے اپنا بدل سپرد کر دیا اب شوہر اپنا مال وصول نہ کرے تو اس کی غلطی ہے اس لئے عورت کو پورا مہر ملے گا ۔ جیسے بائع مبیع مشتری کو سپرد کر دے اور اس نے نہیں لیا اور مبیع ہلاک ہو گئی تومشتری پر اس کی قیمت لازم ہو جاتی ہے ، اسی طرح یہاں بھی لازم ہو جائے گا ۔
وجہ : (١) عن ابراہیم قال قال عمر : ما ذنبھن ان جاء العجز من قبلکم ، لھا الصداق کاملا و العدة کاملة۔( مصنف عبد الرزاق ، باب وجوب الصداق، ج سادس، ص ٢٢٨، نمبر ١٠٩١٥) اس اثر میں ہے کہ عورت کی کیا غلطی ہے اس کو پورا مہر ملے گا ۔
ترجمہ : (١٥٩٧) اور اگر ان دونوں میں سے ایک بیمار ہو، یا رمضان میں روزہ ہو ،یا حج ،یا عمرہ کا محرم ہو، یا حائضہ ہو تو یہ خلوت صحیحہ نہیں ہے۔
ترجمہ : ١ اگر طلاق دیدی تو آدھا مہر واجب ہوگا، اس لئے کہ یہ چیزیں وطی سے مانع ہیں ۔
وجہ: (١) ان چیزوں کے ہوتے ہوئے آدمی صحبت نہیںکر سکتا اس لئے پوری خلوت نہیں ہوئی۔اور عورت کی جانب سے مال سپرد کرنا نہیں پایا گیا اس لئے پورا مہر لازم نہیں ہوگا۔مثلا بیمار ہو تو رغبت نہیں ہوگی۔اور رمضان کا روزہ ہو تو صحبت کرنے سے کفارہ لازم ہوگا۔اور احرام ہو تو صحبت کرنے سے دم لازم ہوگا۔اور حائضہ ہو تو صحبت ممنوع ہے۔اس لئے ان چیزوں سے خلوت صحیحہ نہیں