(١٥٩٦) واذا خلا الرجل بامرأتہ ولیس ہناک مانع من الوطی ثم طلقہا فلہا کمال المہر )
١ وقال الشافعی لہا نصف المہر لان المعقود علیہ انما یصیر مستوفیً بالوطی فلایتأکد المہر دونہ
وجہ: مہر کم کرنا عورت کا حق ہے اس لئے اگر وہ متعین مہر میں سے کچھ کم کرنا چاہے تو کم کر سکتی ہے (٢) آیت میں کم کر نے کا ثبوت ہے بلکہ ترغیب دی گئی ہے۔وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضة فنصف ما فرضتم الا ان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقد النکاح وان تعفوا اقرب للتقوی (آیت ٢٣٧، سورة البقرة ٢) اس آیت میں فرمایا الا یعفون جس سے عورت کو ترغیب ہے کہ وہ مہر میں سے کم کردے۔ ۔حط: کم کر نا ۔
ترجمہ : (١٥٩٦) اگر خلوت کرے شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اور وہاں وطی سے کوئی مانع نہ ہو پھر اس کو طلاق دے تو اس کے لئے پورا مہر ہوگا۔
تشریح: شوہر اپنی بیوی سے خلوت کرے اور وہاں وطی کرنے سے کوئی مانع نہ ہو مثلا مرد یا عورت روزے کی حالت میں نہ ہو ، یااحرام کی حالت میں نہ ہو ، وہاں کوئی آدمی نہ ہو اور عورت وطی کر نے سے انکار بھی نہ کرے وطی کر نے کا پورا موقع ہو پھر بھی مرد نے وطی نہیں کی تو اس پر پورا مہر لازم ہو جائے گا۔
وجہ: (١) عورت نے مال سپرد کر دیا اور گویا کہ شوہر نے قبضہ کر لیا اس لئے پورا مہر لازم ہوگا۔اب شوہر اس کو استعمال نہ کرے تو یہ اس کی کوتاہی ہے (٢) حدیث مرسل میں ہے۔عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان قال قال رسول اللہ ۖ من کشف خمار امرأة ونظر الیھا فقد وجب الصداق دخل بھا او لم یدخل بھا (دار قطنی ، کتاب النکاح ج ثالث ص ٢١٣ نمبر ٣٧٨٠ سنن للبیہقی ، باب من قال من اغلق بابا او ارخی سترا فقد وجب الصداق ج ،سابع ص ٤١٨،نمبر١٤٤٨٧)(٣) اثر میں بھی ہے ۔ قال عمر بن الخطاب اذا اغلق بابا وارخی سترا فقد وجب لھا الصداق وعلیھا العدة ولھا المیراث (دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث ،ص ٢١٢ ،نمبر ٣٧٧٩ سنن للبیہقی ، باب من قال من اغلاق بابا او ارخی سترا فقد وجب الصداق ،ج سا بع، ص ٤١٦،نمبر١٤٤٨١ مصنف عبد الرزاق، باب وجوب الصداق، ج سادس ، ص ٢٢٨، نمبر ١٠٩١١) اس اثر اور حدیث سے معلوم ہوا کہ خلوت صحیحہ ہو جائے تو مہر کامل لازم ہو جائے گا چاہے صحبت نہ کی ہو۔
اصول : پورے طور پر بدل ]یعنی بضع[ سونپنے سے مہر لازم ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ١ امام شافعی نے فر ما یا کہ اس کے لئے آدھا مہر ہو گا اس لئے کہ جس پر عقد ہوا ہے وہ وطی سے وصول ہو گا اس لئے مہر اس کے بغیر مؤکد نہیں ہو گا ۔
تشریح : امام شافعی نے فر ما یا کہ خلوت صحیحہ سے بھی آدھا مہر ہی لازم ہو گا ، اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ وطی سے بضع وصول ہو تا ہے اور جب تک بدل وصول نہیں کیا تو اس کی قیمت مہر بھی پورا لازم نہیں ہو گا ۔