Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

169 - 465
 ٣  وعلی قول ابی یوسف اولا تتنصف مع الاصل لان النصف عندہما یختص بالمفروض فی العقد وعندہ المفروض بعدہ کالمفروض فیہ علی مامر  (١٥٩٥) وان حطت عنہ من مہرہا صح الحط ) لان المہر حقہا والحط یلاقیہ حالة البقاء   

ترجمہ : ٣  اور امام ابو یوسف  کے  پہلے قول پر اصل کے ساتھ آدھا ہو گا ۔ اس لئے کہ امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کے نزدیک عقد میں جو متعین ہوا اس کے ساتھ آدھا خاص ہے ۔ اور امام ابو یوسف  کے نزدیک جو بعد میں متعین ہوا وہ ایسا ہی ہے جو عقد میں متعین ہوا ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ۔ 
تشریح :   جو مہر بعد میں متعین کیا مثلا پانچ سونکاح کے وقت متعین کیا تھا اور بعد میں شوہر نے ایک سو درہم اور زیادہ کیا توامام ابویوسف  کے پہلے قول کے مطابق اس ایک سو کا بھی آدھا ہو گا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد میں متعین کر نا ایسا ہی ہے جیسا کہ نکاح کے وقت متعین کر نا ،پس نکاح کے وقت متعین کئے ہوئے کا آدھا ہو تا ہے تو اس ایک سو کا بھی آدھا ہو گا ۔
وجہ :  (١) ان کا استدلال اس آیت کے اشارے سے ہے ۔  و لا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کا ن علیما حکیما ۔ ( آیت ٢٤، سورة النساء ٤) اس آیت میں ہے کہ مہر مقرر ہو نے کے بعد کچھ زیادہ دو تو دے سکتے ہو، اس آیت کے اشارے میں یہ بھی ہے کہ اس کا بھی آدھا ہو سکتا ہے ۔ 
اصول : امام ابو یوسف  کے یہاں بعد میں زیادہ کیا ہوا مہر عقد کے وقت کی طرح ہے ۔ 
اور امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کے یہاں جو مہر نکاح کے وقت متعین ہوا ہو اس کا ہی آدھا ہو گا اور جو بعد میں زیادہ کیا ہو اس کا آدھا نہیں ہو گا ، اس لئے کہ وہ اصل کے ساتھ پورے طور پر ملحق نہیںہوتا ہے۔ 
وجہ:  (١) آیت میں اشارہ ہے کہ جو نکاح کے وقت متعین کیا ہے اسی کا آدھا ہوگا ،بعد کی زیادتی کا آدھا نہیں ہوگا۔وان طلقتموھن من قبل ان تمسو ھن وقد فرضتم لھن فریضة فنصف ما فرضتم۔ (آیت ٢٣٧ سورة البقرة٢) اس آیت میں ہے کہ جو تم نے نکاح کے وقت متعین کیا ہے صحبت سے پہلے طلاق دی ہو تو اس کا آدھا ہوگا۔جس کا مطلب یہ ہوگا کہ بعد میں جو زیادہ دیا ہے اس کا آدھا نہیں ہوگا۔
ترجمہ :(١٥٩٥)  پس اگر عورت کم کردے اس کے مہر سے تو کم کرنا صحیح ہے۔ 
 ترجمہ :  ١  اس لئے کہ مہر عورت کا حق ہے اور کم کر نا بقاء کی حالت میں ہے ]اس لئے اس کا کم کرنا صحیح ہے [ 
تشریح :  عورت بعد میں مہر کم کر نا چاہے تو کر سکتی ہے ، اس لئے کہ نکاح منعقد ہو تے وقت تو شریعت کا بھی حق ہو تا ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہ رکھے ، لیکن بعد میں بقا کی حالت میں عورت کا حق ہو تا ہے اس لئے وہ اس وقت کم کر نا چا ہے تو کرسکتی ہے۔ 

Flag Counter