(١٥٩٤) فان زادہا فی المہر بعد العقد لزمتہ الزیادة ) ١ خلافاً لزفر وسنذکرہ فی زیادة الثمن والمثمن انشاء اللہ ٢ واذا صحت الزیادة تسقط بالطلاق قبل الدخول
ترجمہ : (١٥٩٤) اور اگر زیادہ کیا مہر میں عقد کے بعد تو اس کو زیادتی لازم ہوگی] اگر اس سے صحبت کی یا مرگیا۔[
تشریح : عقد کے وقت مثلا پانچ سو درہم مہر متعین کیا ۔بعد میں ایک سو اور زیادہ کر دیا ۔پس اگر صحبت کی یا صحبت سے پہلے شوہر یا بیوی کا انتقال ہو گیا تو یہ ایک سو مہر بھی لازم ہوگا۔
وجہ : (١) قاعدہ یہ ہے کہ بعد میں جو کچھ زیادتی کرے وہ اصل مہر کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے ۔ اس لئے صحبت کی ہو یا انتقال کیا ہو تو زیادتی بھی لازم ہو گی (٢) اس آیت میں اس کا ثبوت ہے ۔و لا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کا ن علیما حکیما ۔ ( آیت ٢٤، سورة النساء ٤) اس آیت میں ہے کہ مہر مقرر ہو نے کے بعد کچھ زیادہ دو تو دے سکتے ہو ۔
(٣)مہر بیع کی طرح ہے ۔اور بیع میں مشتری ثمن میں زیادتی کر سکتا ہے۔اس لئے مہر میں بھی زیادتی کر سکتا ہے۔ثمن میں زیادتی کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن ابی رافع قال استسلف رسول اللہ ۖ بکرا فجائتہ ابل من الصدقة فامرنی ان اقضی الرجل بکرہ فقلت لم اجد فی الابل الا جملا خیارا رباعیافقال النبی ۖ اعطہ ایاہ فان خیار الناس احسنھم قضاء (ابو داؤد شریف ، باب فی حسن القضاء ،ص ١١٩ ،نمبر ٣٣٤٦) اس حدیث میں حضورۖ نے زیادہ دیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مہر بھی زیادہ دے سکتا ہے۔
اصول : عقد کے بعد جو مہر کم یا زیادہ کیا ہو تو وہ اصل عقد کے ساتھ مل جائے گا ، لیکن جہاں اس کا آدھا کرنے کی ضرورت ہو وہاں عقد کے وقت کے مہر کا آدھا کیا جائے اور باقی ساقط ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ١ خلاف امام زفر کے ۔ اور اس بحث کو ثمن اور مبیع کے زیادہ کرنے کے بحث میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے ۔
تشریح : امام زفر کی رائے یہ ہے کہ اگر بعد میں مہر زیادہ کیا تو یہ مستقل ہبہ ہے اس لئے یہ اصل مہر کے ساتھ متصل نہیں ہو گا ۔ اس کی اصل بحث کتاب البیوع میں آئے گی۔
ترجمہ : ٢ اور جب زیادہ کر نا صحیح ہے تو دخول سے پہلے طلاق دینے سے زیادتی ساقط ہو جائے گی ۔
تشریح : نکاح کے عقد کے بعد جو ایک سو زیادہ کیا تھا اگر وطی سے پہلے طلاق دے دی تو وہ ایک سو ساقط ہو جائے گا اس کا آدھا نہیں کیا جائے گا ، صرف جو نکاح کے وقت پانچ سو مہر باندھا تھا اس کا آدھا ہو گا اور ڈھائی سو لازم ہو گا ۔ اس کی وجہ پہلے گزر چکی ہے کہ نکاح کے وقت جو مہر متعین ہوا ہے صرف اس کا آدھا ہو تا ہے ، بعد میں جو زیادتی کی اس کا آدھا نہیں ہو تا ۔