Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

167 - 465
 ١   وعلی قول ابی یوسف الاول نصف ہذا المفروض وہو قول الشافعی لانہ مفروض فیتنصف بالنص  ٢  ولنا ان ہذا الفرض تعیین للواجب بالعقد وہو مہر المثل وذلک لایتنصف فکذا ما نزل منزلتہ  ٣ والمراد بما تلا الفرض فی العقد اذ ہوالفرض المتعارف  قال  

کے لئے متعہ ہے ۔
ترجمہ :  ١  حضرت امام ابو یوسف  کے قول اول پر یہ ہے کہ بعد میں متعین کئے ہوئے کا آدھا مہر لازم ہو گا ، اور یہی قول امام شافعی  کا ہے ، اس لئے کہ یہ متعین کیا ہوا ہے ، اس لئے آیت کی وجہ سے آدھا ہو گا۔ 
تشریح : امام ابو یوسف  کا پہلا قول یہ ہے کہ اس عورت کو بعد میں جو مہر متعین کیا ہے اس کا آدھا ملے گا ، اور امام شافعی  کا بھی یہی  قول ہے ۔ 
وجہ :  (١) اس کی وجہ یہ فر ماتے ہیں کہ چاہے بعد میں مہر متعین کیا ہو لیکن کیا تو ہے ، اور آیت میں ہے کہ مہر متعین ہو اور دخول سے پہلے طلاق واقع ہوئی ہو تو اس کا آدھا دیا جائے گا اس لئے اس عورت کو آدھا مہر ملے گا ۔ (٢) اس آیت میں ہے ۔ وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضة فنصف ما فرضتم الا ان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقدة النکاح (آیت ٢٣٧ ،سورة البقرة ٢) اس آیت میں ہے کہ صحبت سے پہلے طلاق دے تو عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
ترجمہ : ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ بعد میں متعین کر نا عقد کی وجہ سے جو واجب ہوا ہے اس کو متعین کر نا ہے اور وہ مہر مثل ہے ، اور مہر مثل کا آدھا نہیں ہو تا تو ایسے ہی جو اس کی جگہ میں ہے وہ بھی آدھا نہیں ہو گا  
تشریح :  ہم یہ کہتے ہیں کہ نکاح کے عقد کے وقت جو متعین ہوا ہے اصل مہروہی ہے ، اور عقد کے وقت کچھ متعین نہیں ہوا ہے اس لئے مہر مثل لازم ہوا ، اور مہر مثل اصل ہو گیا ، اور نکاح کے بعد جو متعین کیا ہے وہ مہر مثل ہی کاتعین ہے یا اسکی ہی وضاحت ہے ، اور دخول سے پہلے طلاق واقع ہو نے سے مہر مثل کا آدھا نہیں ہو تا اس لئے جو مہر بعد میں متعین کیا اس کا بھی آدھا نہیں ہو گا، اس لئے متعہ لازم ہو گا ۔۔فرض :  یہاں فرض کا معنی ہے متعین کر نا ۔  
ترجمہ :  ٣  اور جو آیت تلاوت کی گئی اس سے مراد وہ تعین ہے جو عقد کے وقت ہو اس لئے کہ وہی متعین متعارف ہے ۔
تشریح :  یہ امام ابو یوسف  کو جواب ہے ، کہ آپ نے جو۔وقد فرضتم لھن فریضة فنصف ما فرضتم  (آیت ٢٣٧ ،سورة البقرة ٢) تلاوت کی اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کے عقد کے وقت جو متعین کیا ہو اس کا آدھا ہو تا ہے ، اور یہاں نکاح کے عقد کے وقت کچھ متعین نہیں کیا ہے بلکہ بعد میں متعین کیا ہے اس لئے اس کا آدھا نہیں ہو گا ، کیونکہ اس سے مہر مثل لازم ہو ا اور مہر مثل کا آدھا نہیںہو تا ہے اس لئے بعد والے کا بھی آدھا نہیں ہو گا ، اور متعہ لازم ہو جائے گا ۔

Flag Counter