الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ ٤ ثم ہی لاتزاد علی نصف مہر مثلہا ولا تنقص عن خمسة دراہم ویعرف ذلک فی الاصل (١٥٩٣) وان تزوجہا ولم یسم لہا مہراً ثم تراضیا علی تسمیتہ فہی لہا ان دخل بہا او مات عنہا وان طلقہا قبل الدخول بہا فلہا المتعة )
الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ (آیت ٢٣٦ سورة البقرة ٢) ہے ۔
تشریح : آیت میں ٫قدرہ، مذکر کا صیغہ استعمال کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ مرد کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا ۔ صحیح بات یہی ہے ۔
ترجمہ : ٤ پھر وہ مہر مثل کے آدھے سے زیادہ نہ ہو ، اور پانچ درہم سے کم نہ ہو ۔ کتاب الاصل میں یہ پہچا نا جائے گا ۔
تشریح : مبسوط کتاب الاصل میں اس بات کا ذکر ہے کہ عورت کا جو مہر مثل ہے ، متعہ کی قیمت مہر مثل کے آدھے سے زیادہ نہ ہو، کیونکہ دخول سے پہلے طلاق ہوئی ہے اس لئے مہر مثل کا آدھا ہو نا چاہئے ، لیکن مہر مثل کا آدھا کے بجائے متعہ واجب ہوا تو اس کی قیمت بھی مہر مثل کے آدھے سے زیادہ نہ ہو، اور شریعت میں کم سے کم مہر دس درہم ہے اس لئے اس کا آدھا پانچ درہم ہے اس لئے متعہ کی قیمت پانچ درہم سے کم نہو ۔ نوٹ امام محمد کی کتاب الاصل]مبسوط[ میں کتاب النکاح ، کتاب الطلاق کا باب ہی نہیں ہے ۔
ترجمہ :(١٥٩٣) اگر عورت سے شادی کی اور اس کے لئے مہر متعین نہیں کیا پھر دونوں راضی ہو گئے مہر کی مقدار پر تو وہ اس کے لئے ہوگا اگر اس سے صحبت کی یا انتقال کر گیا۔اور اگر اس کو دخول سے پہلے طلاق دی تو اس کے لئے متعہ ہے ۔
تشریح: عورت سے شادی کی اور اس کے لئے مہر متعین نہیں کیا بعد میں دونوں کسی مقدار پر راضی ہو گئے تو صحبت کرنے کے بعد یا شوہر کے انتقال کے بعد وہی مہر لازم ہوگا جس پر دونوں راضی ہو گئے ہیں۔
وجہ : (١)مہر مثل اس وقت واجب ہوتا ہے جب کچھ بھی طے نہ ہو اور یہاں بعد میں ایک مقدار طے کر لی اور عورت اس پر راضی ہو گئی اس لئے مہر مثل لازم نہیں ہوگا بلکہ جو طے ہوا ہے وہی لازم ہوگا۔
اور اگر اس کو طلاق دی صحبت سے پہلے اور خلوت سے پہلے تو اس کے لئے متعہ ہے۔
اور اگر صحبت سے پہلے یا خلوت سے پہلے طلاق دے دی تو اس مقدار کا آدھا نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے متعہ ہوگا۔
وجہ: (١) چونکہ نکاح کے وقت مہر متعین نہیں کیا بعد میں مقدار متعین کی ہے اس لئے اس متعینہ مقدار کا آدھا نہیں ہوگا۔ اور یوں سمجھا جائے گا کہ مہر متعین نہیں ہے اس لئے بغیر خلوت کے طلاق دی ہے تو اس کے لئے صرف متعہ ہوگا(٢) آیت گزر چکی ہے ۔ لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ۔ (آیت ٢٣٦ ،سورة البقرة٢)اس آیت میں ہے کہ نکاح کے وقت کچھ متعین نہ کیا ہو اور چھونے سے پہلے طلاق دی ہو تو اس