(١٥٩٢) والمتعة ثلثة اثواب من کسوة مثلہا وہی درع وخمار وملحفة ) ١ وہذا التقدیر مروی عن عائشة وابن عباس ٢ وقولہ من کسوة مثلہا اشارة الی انہ یعتبر حالہا وہو قول الکرخی فی المتعة الواجبة لقیامہا مقام مہر المثل ٣ والصحیح انہ یعتبرحالہ عملاً بالنص وہو قولہ تعالیٰ علی
اس لئے متعہ دینا واجب نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : (١٥٩٢) متعہ تین کپڑے ہیں ان کپڑوں میںسے جو وہ پہنتی ہیں ، اور وہ کرتا ، اوڑھنی ، اور چادر ہیں ۔
ترجمہ : ١ یہ اندازہ حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔
تشریح : متعہ تین کپڑے ہیں ]١[ کرتا ]٢[ اوڑھنی]٣[ اور چادر ۔ اور یہ اس درجے کا کپڑا ہو جس درجے کا کپڑا وہ پہنتی ہے ، مثلا مالدار گھرانے کی ہو تو اعلی درجے کا کپڑا ہو ، اور غریب گھرانے کی ہو تو ادنی درجے کا کپڑا ہو اور درمیانہ گھرانے کی ہو تو اوسط درجے کا کپڑا دیا جائے ۔
وجہ : (١) اس کپڑے کے بارے حضرت عائشہ کی حدیث یہ ہے، جسکو صاحب ہدایہ نے پیش کی ہے ۔ حضور ۖ نے صحبت سے پہلے عمرہ بنت جون کو طلاق دی تو تین کپڑے متعہ دیا۔عن عائشة ان عمرة بنت الجون تعوذت من رسول اللہ ۖ حین ادخلت علیہ فقال لقد عذت بمعاذ فطلقھا وامر اسامة او انسا فمتعھا بثلاثة اثواب رازقیة۔ (ابن ماجہ شریف ، باب متعة الطلاق ص ٢٩٢ نمبر ٢٠٣٧)(٢) اور ابن عباس کی حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس فی ھذہ الآیة قال ھو الرجل یتزوج المرأة ولم یسم لھا صداقا ثم طلقھا من قبل ان ینکحھا فامر اللہ تعالی ان یمتعھا علی قدر یسرہ وعسرہ فان کان موسرا متعھا بخادم او نحو ذلک وان کان معسرا فبثلاثة اثواب او نحو ذلک ۔ (سنن للبیہقی،باب التفویض،کتاب الصداق، ج سابع، ص ٣٩٨، نمبر١٤٤٠٥)
ترجمہ : ٢ ماتن کا قول ٫من کسوة مثلھا ،اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عورت کے حال کا اعتبار کیا جائے گا ، اور امام کرخی کا قول متعہ واجبہ میں یہی ہے اس لئے کہ وہ مہر مثل کے قائم مقام ہے ۔
تشریح : متن میں مثلھا کا لفظ استعمال کیا ہے جس سے اشارہ ہو تا ہے کہ عورت کی حالت کے مطابق کپڑا دیا جائے گا ، چنانچہ امام کرخی کی رائے یہی ہے کہ متعہ واجبہ میں عورت کی حالت کے مطابق کپڑا دیا جائے ، کیونکہ دخول نہ ہو نے کی وجہ سے اس کو مہر مثل نہیں ملا تو یہ کپڑا مہر مثل کے قائم مقام ہے ، اور مہر مثل میں عورت کے خاندان کے مہر کا اعتبار کیا جا تا ہے اس لئے اس کپڑے میں بھی عورت کے خاندان کا اعتبار کیا جائے گا ۔
ترجمہ : ٣ صحیح بات یہ ہے کہ اعتبار کیا جائے گا مرد کی حالت کا آیت پر عمل کرتے ہوئے اور وہ اللہ تعالی کا قول ۔ علی