(١٥٩١) ولو طلقہا قبل الدخول بہا فلہا المتعة ) ١ لقولہ تعالی ومتعوہن علی الموسع قدرہ الاٰےة ٢ ثم ہذہ المتعة واجبة رجوعاً الی الامر ٣ وفیہ خلاف مالک
اس کا بدلہ مہر ضرور لازم ہو گا ، یامرنے کی وجہ سے نکاح پکا ہو گیا ہو تب بھی مہر لازم ہو گا ، کیونکہ یہ شریعت کا حق ہے، اور عورت کا حق اس کے بعد آتا ہے اس وقت مہر متعین ہو نے کے بعد اس کو نہ لینا چاہے اور شوہر کو بری کر نا چا ہے تو کر سکتی ہے ۔
لغت: ابراء : لازم ہو نے کے بعد بری کر نا ۔ نفی : شروع ہی سے مہر کو انکار کر نے کو نفی کہتے ہیں ۔تتمکن : قدرت رکھتی ہے ۔
ترجمہ :(١٥٩١) اور اگر اس کو طلاق دی اس سے صحبت سے پہلے ،یا خلوت سے پہلے تو اس کے لئے متعہ ہوگا ۔
ترجمہ : ١ ومتعوھن علی الموسع قدرہ (آیت ٢٣٦ ،سورة البقرة ٢) کی وجہ سے ۔
تشریح: اگر عورت کے لئے مہر متعین نہ کیا ہو اور اس کو صحبت یا خلوت سے پہلے طلاق دے دی ہو تو ایسی عورت کو متعہ ملے گا ۔ وجہ: (١)آیت میں ہے کہ ایسی عورت کو متعہ دیا جائے گا۔لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ متاعا بالمعروف حقا علی المحسنین (آیت ٢٣٦ سورة البقرة ٢) اس آیت کی تفسیر عبد اللہ بن عباس سے یوں ہے ۔عن ابن عباس فی ھذہ الآیة قال ھو الرجل یتزوج المرأة ولم یسم لھا صداقا ثم طلقھا من قبل ان ینکحھا فامر اللہ تعالی ان یمتعھا علی قدر یسرہ وعسرہ فان کان موسرا متعھا بخادم او نحو ذلک وان کان معسرا فبثلاثة اثواب او نحو ذلک ۔ (سنن للبیہقی،باب التفویض،کتاب الصداق، ج سابع، ص ٣٩٨، نمبر١٤٤٠٥) اس سے معلوم ہوا کہ جس عورت کے لئے مہر متعین نہ ہو اور صحبت سے پہلے طلاق ہو جائے اس کو متعہ دینا واجب ہے۔اور اس اثر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ متعہ تین کپڑے ہیں۔
ترجمہ : ٢ پھر یہ متعہ واجب ہے رجوع کرتے ہوئے امر کی طرف ۔
تشریح : ایسی عورت کو متعہ دینا واجب ہے ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں٫ و متعوھن ، امر کا صیغہ ہے جو وجوب کے لئے آتا ہے ، اور دوسری بات یہ ہے کہ٫ حقا علی المحسنین ، فر ما یا کہ احسان کر نے والوں پر حق ہے ، یعنی واجب ہے اس لئے یہ متعہ واجب ہے ، (٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسی عورت کو مہر بھی کچھ نہیں ملے گا اور شوہر ہاتھ سے چلا گیا اس لئے کم سے کم متعہ ہی دے دیں ۔
ترجمہ : ٣ اس بارے میں امام مالک کا اختلاف ہے ۔
تشریح : امام مالک کی رائی ہے کہ متعہ دینا مستحب ہے ۔
وجہ : (١) انکی دلیل یہ ہے کہ آیت میں حقا علی المحسنین ، ہے اور محسن اس کو کہتے ہیں جو نفل کام کرے اور وہ کام اس پر واجب نہ ہو