٤ وما جری بین الفضولیین عقد تام ٥ وکذا الخلع واختاہ لانہ تصرف یمین من جانبہ حتی یلزم فیتم بہ (١٥٨١) ومن امر رجلا ان یزوجہ امرأة فزوجہ اثنین فی عقدة لم تلزمہ واحدة منہما )
١ لانہ لا وجہ الی تنفیذ ہما للمخالفة ولا الی التنفیذ فی احدٰ ہما غیر عین للجہالة ولا الی التعیین
ترجمہ :٤ اور جو دو فضولیوں کے درمیان جاری ہوا وہ عقد تام ہے ۔
تشریح : دو آدمی میاں بیوی دونوں جانب سے فضولی تھے تو چونکہ مجلس میں ایجاب اور قبول دو نوں ہوئے اس لئے نکاح تام ہو جائے گا ، البتہ چونکہ یہ ولی یا وکیل نہیں ہیں اس لئے دو نوں کی اجازت پر موقوف رہے گا ۔
ترجمہ : ٥ ایسے ہی خلع اور اس کی بہنیں ]یعنی مال کے بدلے طلاق اور مال کے بدلے آزادگی [ کا عقد تام ہے اس لئے کہ شوہر کی جانب سے یمین کا تصرف ہے یہی وجہ ہے کہ اس پر لازم ہے ۔
تشریح : ایک ہے ایجاب اور قبول ، اس میں ایجاب کر نے کے بعد مجلس میں قبول کرے تو عقد ہو گا اور مجلس ختم ہو جائے تو ایجاب باطل ہو جا تا ہے ، اس میں یہ بھی ہے کہ ایجاب کر نے کے بعد قبول کرنے سے پہلے اپنی بات سے رجوع کر نا چا ہے تو کر سکتا ہے ۔ ]٢[ دوسرا ہے ، یمین ، جسکو شرط بھی کہتے ہیں اور قسم بھی کہتے ہیں ، اگر یہ بول دیا تو اس کا قبول کر نا مجلس کے ساتھ خاص نہیں ہے ، مجلس کے باہر بھی قبول کر سکتا ہے ، اور جو بولا ہے وہ اپنی بات واپس بھی نہیں لے سکتا ، کیونکہ یہ قسم ہے ۔ شوہر کی جانب سے خلع کا ایجاب یمین ہی ہے اس لئے مجلس میں عورت کا قبول کر نا ضروری نہیں مجلس سے باہر بھی قبول کر سکتی ہے ، اس لئے امام ابو یوسف کا اپنے استدلال میں ان مثالوں کا پیش کر نا صحیح نہیں ہے ۔ ہاں عورت اگر کہے میں اتنے درہم میں خلع کر تی ہوں تو یہ اس کی جانب سے طلاق کے بدلے میں معاوضہ ہے اس لئے یہ بیع کی طرح عقد ہو گیا ، یمین نہیں ہے اس لئے شوہر کا مجلس میں قبول کر نا ضروری ہے ۔ یہی حال مال کے بدلے میں طلاق اور عتاق کا ہے ، شوہر کی جانب سے ہو تو یہ یمین ہے مجلس سے باہر بھی قبول کر سکتی ہے ۔ اور عورت کی جانب سے ہو تو عقد بیع کی طرح ہے اس لئے شوہر کو مجلس میںقبول کر نا ہو گا ، ورنہ تو ایجاب باطل ہو جائے گا ۔
لغت : حتی یلزم : کا مطلب ہے کہ شوہر کو لازم ہو جائے گا خلع ، یا طلاق علی مال ، عتاق علی مال کا اقدام کر نے کے بعد وہ اپنی بات کو واپس لینا چاہے تو نہیں لے سکتا ۔فیتم بہ : کا مطلب یہ ہے کہ صرف شوہر یہ کہے کہ میں نے اتنے مال پر خلع کیا ، اسی سے بات پوری ہو جائے گی اور یمین پورا ہو جائے گا ، مجلس میں عورت کا قبول کر نا ضروری نہیں ہے ۔
ترجمہ : (١٥٨١) کسی نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ ایک عورت سے نکاح کرا دے تو اس نے ایک ہی عقد میں دو عورتوں سے نکاح کرا دیا تو اس کو دو نوں بیویوں میں سے کوئی بھی لازم نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ کوئی وجہ نہیں ہے دو نوں کو نافذ کر نے کی حکم کی مخالفت کی وجہ سے ۔ اور نہ دو نوں میںسے کسی ایک کے