Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

150 - 465
 ٢  ولہما ان الموجود شطر العقد لانہ شطر حالة الحضرة فکدا عند الغیبة وشطر العقد لایتوقف علی ما وراء المجلس کما فی البیع  ٣   بخلاف المامور من الجانبین لانہ ینتقل کلامہ الی العاقدین 

شوہر مجلس میں ہے ، ]١[ طلاق علی مال کی شکل یہ ہے کہ شوہر کہے کہ میں نے پانچ سو درہم  میں بیوی کو طلاق دیا اور بعد میں بیوی اس کی اجازت دے دے تو طلاق ہو جاتی ہے ]٣[ اعتاق علی مال کی شکل یہ ہے کہ آقا کہے کہ میں نے غلام کو پانچ سو درہم کے بدلے آزاد کیا اور غلام مجلس میں نہیں تھا اور بعد میں اس کو قبول کر لے تو آزادگی ہو جاتی ہے ، اور غلام پر پانچ سو درہم لازم ہو جائے گا ، اسی طرح یہاں بھی ایک ہی آدمی دو نوں جانب سے فضولی بن کر نکاح کرائے تو نکاح ہو جائے گا ۔                 
ترجمہ : ٢  امام ابو حنیفہ: اور امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ عقد کا ایک ہی حصہ مو جود ہے اس لئے کہ مو جودگی کی حالت میں بھی ایک ہی حصہ ہے تو ایسے ہی غیبوبت کی حالت میں بھی ایک ہی حصہ ہے اور عقد کا ایک حصہ مجلس کے باہر پر مو قوف نہیں رہتا جیسے کہ بیع میں ہے ۔ 
تشریح :  امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کی دلیل یہ ہے کہ دو نوں جانب سے ایک ہی فضولی ہو تو نکاح کے ایجاب اور قبول میں سے ایک ہی حصہ ہے کیونکہ دوسرا قبول کر نے والا تو نہیں ہے اور ایک حصہ ہو  یعنی صرف ایجاب ہو یا صرف قبول ہو تو مجلس ختم ہو تے ہی باطل ہو جا تا ہے ، مجلس کے باہر قبول کر نے پر مو قوف نہیںرہتا ، جیسے بیع کا صرف ایجاب کرے اور اس کا کوئی قبول کرنے والا نہ ہو تو بیع کا عقد باطل ہو جا تاہے ، مجلس کے باہر قبول کرنے پر مو قوف نہیں رہتا ، اسی طرح نکاح میں بھی صرف ایجاب ہو تو وہ باطل ہو جائے گا ۔   
لغت: شطر العقد : بیع نکاح طلاق وغیرہ کے عقد کر نے میں دو حصہ ہو تا ہے ، ایک ایجاب اور دوسرا قبول دو نوں مجلس میں مو جود ہو تو عقد تام ہو تا ہے اور دو نوں میں سے ایک ہو تو عقد باطل ہو جا تا ہے ، اور ایجاب ، یا قبول اس کا ایک حصہ ہوا جسکو شطر کہتے ہیں ۔ما وراء المجلس : مجلس سے باہر ۔ 
ترجمہ :٣  بخلاف  جسکو دو نوں جانب سے حکم دیا گیا ہو اس لئے کہ اس کا کلام دو عقد کر نے والوں کی طرف منتقل ہو جا تا ہے ۔ 
تشریح :  یہ امام ابو یوسف  کے استدلال کا جواب ہے ، انہوں نے دلیل دی تھی کہ دو نوں جانب کا ایک ہی وکیل ہو تو ایک ہی آدمی کے قول سے نکاح ہو جا تا ہے ، اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ وہاں دو آدمی حکم دینے والے ہیں ، اس لئے جب ایک جملہ بولا تو یہ جملہ دو آدمیوں کی طرف منتقل ہو گیا تو گویا کہ مجلس میں دو آدمیوں نے ایجاب اور قبول کیا اس لئے وہاں نکاح صحیح ہو جائے گا ۔ اور یہاں دو نوں طرف سے ایک ہی فضولی ہے اس لئے اس کا ایک جملہ دو آدمیوں کی طرف منتقل نہیں ہوا اس لئے صرف ایجاب ہی باقی رہ گیا اور ایک ایجاب سے عقد نہیں ہو تا اس لئے نکاح باطل ہو جائے گا ۔

Flag Counter