فضولیا من الجانبین او فضولیا من جانب واصیلا من جانب عندہما خلافاً لہ (١٥٨٠) ولو جری العقد بین الفضولیین اوبین الفضولی والاصیل جاز بالاجماع ) ١ ہو یقول لو کان ماموراً من الجانبین ینفذ فاذا کان فضولیا یتوقف وصار کالخلع والطلاق والاعتاق علی مال
تشریح : اوپر کی عبارت کا حاصل بتا رہے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک]١[ ایک ہی آدمی میاں بیوی دو نوںجانب سے فضولی ہو یہ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ پھر مجلس میں قبول کر نے والا کوئی دوسرا نہیں ہوگا]٢[ اسی طرح وہ آدمی اپنی جانب سے تو اصیل ہو اور لڑکی کی جانب سے فضولی ہو ، یہ بھی نہیں ہو سکتا ، کیونکہ اس صورت میں بھی مجلس میں قبول کر نے والا کوئی دوسرا نہیں ہو گا ،]٣[ اور ایک تیسری شکل رہ گئی کہ ایک جانب سے وکیل ہو اور دوسری جانب سے فضولی ہو ، یہ بھی نہیں ہو سکتا ، کیونکہ اس میں مجلس میں کوئی دوسرا آدمی قبول کر نے وال نہیں ہو گا ، جو ضروری ہے ۔ خلاف امام ابو یوسف کے اس لئے کہ انکے یہاں ایک ہی آدمی دو نوں جانب سے فضولی بن سکتا ہے ، کیونکہ انکے یہاں فضولی کی شکل میں مجلس میں دوسرے آدمی کا قبول کر نا ضروری نہیں ہے ۔
ترجمہ :(١٥٨٠) اگر عقد دو فضولیوں کے درمیان جاری ہوا ، یا ایک فضولی اور ایک اصیل کے درمیان جاری ہوا تو بالاتفاق نکاح جائز ہو گا ۔
تشریح : مثلا خالد بھی زید کی جانب سے فضولی تھا ، اور عمر بھی فریدہ کی جانب سے فضولی تھا ، ایک فضولی نے ایجاب کیا اور مجلس میں دوسرے فضولی نے قبول کیا تو سب کے نزدیک نکاح ہو جائے گا ، اس لئے کہ مجلس میںدوسرا آدمی قبول کر نے والا ہو گیا ، اور ایک ہی آدمی دو نوں جانب سے فضولی نہیں ہوا ۔ ]٢[ دوسری شکل یہ ہے کہ ایک جانب سے فضولی ہے اور دوسری جانب سے اصیل ہے ، اور ایک نے ایجاب کیا اور دوسرے نے مجلس میں قبول کیا تو نکاح ہو جائے گا ، کیونکہ مجلس میں قبول کر نے والا دوسراہو گیا۔
ترجمہ : ١ وہ یعنی امام ابو یوسف قائل ہیں کہ اگر دو نوں جانب سے حکم دیا ہوا ہو تا تو نکاح نافذ ہو جا تا ، پس جب فضولی ہو تو موقوف ہو گا اور خلع اور مال کے بدلے طلاق اور آزادگی کی طرح ہو جائے گا ۔
تشریح : حضرت امام ابو یوسف نے فر ما یا تھا کہ ایک ہی آدمی دو نوں جانب سے فضولی ہو توبھی نکاح ہو جائے گا ، کیونکہ انکے یہاں مجلس میں دوسرے آدمی کے قبول کر نے کی شرط نہیں ہے ، اس کی ایک دلیل د ے رہے ہیں اور تین مثالیں دے رہے ہیں ]١[ ایک دلیل یہ ہے کہ ایک ہی آدمی کو میاں بیوی دو نوں نے نکاح کا حکم دیا ہو اور دو نوں نے وکیل بنایا ہو اور ایک ہی آدمی نے دو نوں کی جانب سے ایجاب اور قبول کر لیا تو نکاح نافذ ہو جا تا ہے ، اسی طرح دو نوں جانب سے فضولی ہو تو نکاح ہو جائے گا لیکن فضولی ہے اس لئے ناکح کی اجازت پر موقوف رہے گا ۔تین مثالیں یہ ہیں ]١[ خلع کی شکل یہ ہے کہ، شوہر نے کہا کہ میں فلاں بیوی سے پانچ سو درہم کے بدلے خلع کر تا ہوں اور بیوی مجلس میں مو جود نہیںاور بعد میں عورت قبول کر لے پھر بھی خلع صحیح ہو جا تا ہے ، حلانکہ یہاں صرف