٢ وقال ابویوسف اذا زوجت نفسہا غائبا فبلغہ فاجاز جاز ٣ وحاصل ہذا ان الواحد لایصلح
وان قال آخر اشھدوا انی زوجتھا منہ : اس عبارت میں آخر سے مراد ہے کہ نکاح کی مجلس میں قبول کرنے والا دوسراآدمی موجود تھا اور اس نے قبول کیا اس لئے ایجاب اور قبول باطل نہیں جائے گا ، لڑکی کو خبر ملنے کے بعد اس نے اجازت دی تو نکاح ہو جائے گا ۔ صورت مسئلہ یہ ہے کہ مثلا خالد نے فضولی کے طور پردو گواہ کے سامنے کہا کہ میں نے زید کا نکاح فریدہ سے کرا یا ، اور زید نے اصیل ہو نے کے اعتبار سے مجلس میں قبول کیا، تو نکاح ہو جائے گا اور فریدہ کی اجازت پر موقوف رہے گا ، وہ اجازت دے گی تو نکاح ہو جائے گا ۔
وجہ : (١)خالد اگر چہ فضولی ہے لیکن زید اصیل ہے اور مجلس میں قبول کیا ہے اس لئے دوسرا آدمی مجلس ہی میں قبول کرنے والا ہوا اس لئے نکاح ہو جائے گا ۔
و کذالک ان کانت المرأة ھی التی قالت جمیع ذالک : اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے جو صورت فرض کی ہے اس میں مرد نے اپنا نکاح فریدہ سے کیا ،اور اس کی تین صورتیں بنی تھیں، اب اسی طرح کا نکاح عورت کرے ، اور عورت کی جانب سے تین صورتیں بنے تو اس کا حکم بھی اوپر ہی کی طرح ہوگا ۔ ]١[ مثلا عورت نے دو گواہوں کے سامنے کہا کہ، میں نے نکاح زید سے کر دیا ،اورزید یا زید کا وکیل مجلس میں نہیں تھا کہ قبول کرتا تو عورت کاقول باطل ہو جائے گا ، کیونکہ عورت اپنی جانب سے اصیل ہے اور زید کی جانب سے فضولی ہے ، اور عورت کے ایجاب کے بعد کوئی دوسرا آدمی مجلس میں قبول کر نے والا نہیں ہے اس لئے اس کا قول باطل ہو جائے گا ، زید کو خبر پہونچنے کے بعد اس کی اجازت بھی دے گا تو نکاح منعقد نہیںہو گا۔ ]٢[ یا عورت دو نوں جانب سے فضولی ہو ، ]٣[ ایک جانب سے وکیل ہو اور دوسری جانب سے فضولی ہو، اور اس مجلس میں دوسرا آدمی قبول کر نے والا نہ ہو تو عورت کا قول باطل ہو جائے گا ۔
ترجمہ :٢ امام ابو یوسف نے فر ما یا کہ اگر عورت نے اپنا نکاح کسی غائب سے کیا اور اس کو خبر پہونچی اور اس نے جائز قرار دیا تو نکاح ہو جائے گا ۔
تشریح : حضرت اامام ابو یوسف کے نزدیک فضولی کی شکل میں مجلس میں دوسرے آدمی کا قبول کر نا ضروری نہیں ہے ، اس لئے کسی عورت نے دو گواہوں کے سامنے کسی غائب مرد سے نکاح کیا اور مجلس میں کوئی دوسرا قبول کر نے والا نہیں تھا ، پھر مرد کو اس کی خبر پہونچی اور اس نے اس نکاح کو جائز قرار دیا تو نکاح ہو جائے گا ، اس میں عورت اپنی جانب سے اصیل ہے ، اور مرد کی جانب سے فضولی ہے۔
ترجمہ : ٣ اس کا حاصل یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک ایک آدمی دو نوں جانب سے فضولی بننے کی صلاحیت نہیںرکھتا ، یا ایک جانب سے فضولی ہو اور دوسری جانب سے اصیل ہو، خلاف امام ابو یوسف کے ۔