Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 4

147 - 465
 (١٥٧٩) ومن قال اشہد وا انی قد تزوجت فلانةً فبلغہا الخبر فاجازت فہو باطل وان قال اٰخر اشہدوا انی زوجتہا منہ فبلغہا الخبر فاجازت جاز وکذلک ان کانت المرأة ہی التی قالت جمیع ذلک )   ١    وہذا عند ابی حنیفة ومحمد

ترجمہ : (١٥٧٩) کسی نے کہا کہ گواہ رہو کہ میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا ، اور فلاں عورت کو خبر ہوئی پس اس نے اجازت دی تو نکاح باطل ہے ۔ اور اگر دوسرے نے کہا کہ تم لوگ گواہ رہو کہ میں نے فلاں عورت کا فلاں مرد سے نکاح کرا دیا ، پھر عورت کو خبر پہونچی اور اس نے اجازت دی تو نکاح جائز ہے ، اور یہی حال ہے اگر عورت نے یہ سب کہا ۔ 
ترجمہ :   ١   یہ امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کے نزدیک ہے ۔  
تشریح :  یہ مسئلہ دو قاعدوں پر ہے ]١[ ایک اصول یہ ہے کہ فضولی کی شکل میں مجلس ہی میں قبول کر نے والا ہو ]٢[ اور دوسرا اصول یہ ہے کہ دوسرا آدمی قبول کر نے والا ہو ، اور نکاح کرے اور ناکح کو اس کی خبر ملے اور وہ اس کی اجازت دے تو نکاح مؤکد ہو جائے گا۔ اور اگر مجلس میں کوئی دوسرا آدمی قبول کر نے والا نہ ہو ، ایک ہی آدمی ایجاب اور قبول کرے تو فضولی کا ایجاب اور قبول باطل ہو جائے گا ، بعد میں ناکح قبول بھی کرے گا تو نکاح نہیں ہو گا ۔ اسکی کل چھ صورت بنتی ہیں ،تین میں نکاح درست ہو تا ہے اور تین صورتوں میں باطل ہو جائے گا ۔]١[ دلہا اور دلہن دو نوں کی جانب سے فضولی ہو، اور دو گواہوں کے سامنے کہے کہ میں نے زید کا نکاح فریدہ سے کرا دیا تو قول باطل ہو جائے گا ، کیونکہ سامنے قبول کر نے والا کوئی نہیں ہوا ]٢[ اپنی جانب سے اصیل ہو اور عورت کی جانب سے فضولی ہو ، اور زیدیوں کہے کہ میں نے اپنا نکاح فریدہ سے کر لیا تو بھی باطل ہو جائے گا ، کیونکہ دو آدمی ایجاب اور قبول کر نے والا نہیں ہوا اور نہ مجلس میں قبول ہوا ۔]٣[  ایک ہی آدمی ایک جانب سے وکیل ہو اور لڑکی یا لڑکا کی جانب سے فضولی ہو ، اورمثلا خالد کہے کہ میں نے زید کا نکاح فریدہ سے کرا دیا تو ایجاب اور قبول باطل ہو جائے گا ، کیونکہ مجلس میں قبول نہیں ہوا ، اور دوسرا آدمی قبول کر نے والا نہیں ہوا اس لئے ایجاب اور قبول باطل ہو جائے گا ۔    
صورت مسئلہ یہ ہے کہ مثلا زید نے دو گواہوں کے سامنے کہا کہ میں نے اپنا نکاح مثلا فریدہ سے کیا ، اور فریدہ کو اس کی خبر پہونچی اور اس نے اس کی اجازت دی تب بھی نکاح نہیں ہو گا ، ایجاب اور قبول باطل ہو جائے گا ۔
وجہ :  (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ زید اپنی جانب سے اصیل ہے اور فریدہ کی جانب سے فضولی ہے ، کیونکہ اس نے نکاح کرانے کے لئے نہیں کہا ، اور نہ اس کا ولی ہے ، اور ایک ہی آدمی نے ایجاب اور قبول کیا ہے مجلس میں دوسرا آدمی قبول کر نے والا نہیں تھا ، اور قاعدہ گزرا کہ فضولی کی شکل میں ایک ہی آدمی ایجاب اور قبول کر نے والا ہو تو قول باطل ہو جا تا ہے، اس لئے ایجاب اور قبول ہی باطل ہو گیا ، اب بعد میں اجازت دینے سے بھی نکاح نہیں ہو گا ۔ 

Flag Counter