(١٥٧٧) قال وتزویج العبد والامة بغیر اذن مولاہما موقوف فان اجاز المولیٰ جاز وان ردہ بطل (١٥٧٨) وکذٰلک لو زوج رجل امرأة بغیر رضاہا او رجلا بغیر رضاہ )
کرنے والا ہو تا ہے کہ جو بات مؤکل کو کہنا چاہئے وہ وکیل کہہ رہا ہے اس لئے دو نوں جانب سے ایک ہی آدمی وکیل بن سکتا ہے ، ہاں حقوق کی ذمہ داری وکیل پر ہو تو دو نوں جانب سے حقوق کا ذمہ دار نہیںبن سکتا ، چنانچہ خرید و فروخت میں ایسا ہی ہو تا ہے کہ جو وکیل ہوتا ہے بیع کی ساری ذمہ داری اس پر عائد ہو تی ہے ،کوئی عیب ہو تو وکیل ہی کی طرف مبیع لوٹائی جاتی ہے اس لئے بیع میں بائع اور مشتری دو نوں جانب سے ایک ہی آدمی وکیل نہیں بن سکتا ۔اور جب دو نوں جانب سے ایک ہی آدمی وکیل بن گیا تو ایک ہی آدمی نے ٫زوجت، کہہ دیا تو نکاح ہو جائے گا اور قبول کی ضرورت نہیں ہو گی ،جس طرح اوپر کی حدیث میں حضور ۖ نے صرف ٫ أنکحتکھا، کہا تو نکاح ہو گیا ۔
لغت: معبر : تعبیر کر نے والا ، بات نقل کرنے والا۔سفیر : درمیان کا آدمی ، بات نقل کرنے والا ۔ تمانع : ممنوع ہو ۔ مباشر : باشر سے مشتق ہے ، خود کرنے والا ۔ تولی : ولی سے مشتق ہے ، دو نوں طرف کا ذمہ دار ۔ شطرین : دو نوں کنارہ ، دو نوں طرف ، یہاں ایجاب اور قبول مراد ہے ۔یتضمن شطرین کا مطلب ہے کہ ایک ہی لفظ ایجاب اور قبول دو نوں کو شامل ہے ۔
ترجمہ : (١٥٧٧) غلام اور باندی نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا تو نکاح مو قوف رہے گا ، پس اگرآقا نے اجازت دی تو نکاح جائز ہو جائے گا ، اور اگر رد کر دیا تو نکاح باطل ہو جائے گا ۔
تشریح : آقا کی اجازت کے بغیر غلام اور باندی کا نکاح مو قوف رہے گا ، پس اگر اس نے نکاح کی اجازت دی تو پہلے کیا ہوا نکاح جائز ہو جائے گا اور نکاح کی اجازت نہیں دی تو نکاح باطل ہو جائے گا ۔
وجہ : (١) غلام اور باندی آقا کے مال ہیں اور نکاح کر نے سے اس مال میں نقصان ہو گا مثلا غلام نے نکاح کیا تو وہ مہر میں بیچا جا سکتا ہے اور یہ آقا کا نقصان ہے ، اور باندی نکاح کرے گی تو آقا کا اس سے وطی کر نا حلال نہیں رہے گا ، یہ بھی آقا کا نقصان ہے اس لئے آقا کی اجازت کے بغیر یہ نقصان برداشت نہیں کیا جائے گا ، اس لئے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہو گا ۔ (٢) اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔ ۔عن ابن عمر عن النبی ۖ قال اذا نکح العبد بغیر اذن مولاہ فنکاحہ باطل۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی نکاح العبد بغیر اذن موالیہ ص ٢٩١ نمبر ٢٠٧٩ ترمذی شریف، باب ما جاء فی نکاح العبد بغیر اذان سیدہ،ص ٢٦٨،نمبر ١١١١)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلام باندی کا نکاح بغیر آقا کی اجازت کے باطل ہے، اس لئے انکی اجازت پر موقوف رہے گا ۔
ترجمہ : (١٥٧٨) ایسے ہی اگرکسی آدمی نے کسی عورت کی شادی بغیر اس کی اجازت کے کرا دی، یا کسی مرد کی شادی بغیر اس کی رضامندی کے کرادی ]تو وہ اس کی اجازت پر موقوف رہے گی ۔